تاوان عشق // عفیفہ ہزل

Published on :

گداذ لمحوں میں ڈھکی چھپی آہوں نے چاہے جانے کی چاہت ابھری ہے اک فریاد لبوں پر جاری ہے ہائے کیا کروں مجھے دیکھو مجھ پر نظر کرو میرا آئینہ، میری کہانی بنو شوق دید نے بصارت چھینی ہے ہائے کیا کروں سرگوشیوں میں مہکی تیرے نام کی خوشبو نے […]

“وہ لوگ جو ڈھلتی شاموں میں” ( جفا کہ اس دور میں آغازِ وفا کرنے والے ہر محبِ وطن کے نام) // مصباح احمد

Published on :

اٹھتا یہ دھواں صداؤں کا خون رنگ بھنور ہواؤں کا جور و جفا کے قصوں کا سب ٹوٹے بکھرے حصؤں کا ان لہروں سا جو ساحل سے لپٹنے کو سر پٹخاتی ہیں جو ذوقِ نظر کے ملنے کو جان سے اپنی بھی جاتی ہیں ہر سمت سے گرتے شعلے جو آنگن کو جلانے پھرتے ہیں ہر نگر بچھائے خار کہ سب پاؤں جو لُہائے پھرتے ہیں اس راہبر کی اطباع میں جو سینے یوں سجائے پھرتے ہیں اس خاک و خون کے پُتلے کو اس آگ و یاس کے دریا میں ہر وادیِ غیر کے ٹیلوں پر کچھ لوگ جلائے پھرتے ہیں اور محفل کو جمائے پھرتے ہیں وہ جن سے آس کے بادل کہ، قطراتِ محبت برستے ہیں وہ لوگ چمن کے ہر گل کی خوشبو سے مہکے ہر پل کی اِک پیاس بُجھائے پھرتے ہیں راتیں وہ جنکی سرد بھی ہوں اور شام کی گرمی زرد بھی ہو وہ جنکے دن میں شور بھی ہو اک موجِ صبا سا زور بھی ہو کچھ روحِ وفا اور بھی ہو وہ رخ بدل کے ہواؤں کے منہ زور اِن فضاؤں کے لکیریں خود مٹاتے ہیں اور تقدیریں بناتے ہیں وہ لوگ ہی ڈھلتی شاموں میں اِک آس کی لُو جلاتے ہیں اور گزرتے دن  مہکاتے ہیں۔ +20