جب یادیں خون رلاتی ہیں
تب دل میں سوز اترتا ہے
پھر ساون خوب مہکتا ہے
اور تن من یوں سلگتا ہے
اک چنگاری اک شعلہ سا
اک آہ چلے ہے دریا سا
میرے سائیں کا یوں کرم ہوا
میرا حسن جل کر راکھ ہوا
جب زخم پہ ہریالی چھا جاتی ہے
تب درد رگوں سے برستا ہے
پھر یاد کا مرہم آتا ہے
اور سارے درد لے جاتا ہے
اک لمس اک احساس اس کا
اک آتا جاتا سانس اس کا
میں سدھ بدھ یوں ہی کھو دیتی ہوں
کہ مدھم، برہم ہو جاتی ہوں
جب صبح بہاراں آتی ہے
تب سانسوں میں روانی آتی ہے
پھر دل کا گھر یوں کھلتا ہے
اور آنکھ سے اشک چھلکتا ہے
اک الجھن اور اک سلجھن سا
صحرا بھی ہے اب شبنم سا
میری ویرانی یوں دور ہوئ
جیسے آنگن آنگن بارش ہوئ
جب عشق کی صدائیں آتی ہیں
تب لبیک لبیک ہوتا ہے
پھر ہجر وصال سے ملتا ہے
اور “ھو” کا چراغ جلتا ہے
اک حیراں اک پشیماں سا
ہر دل ہے ساکن نقطہ سا
میری روح یوں رقص پہ مائل ہوئ
جیسے ہرنی تیر سے گھائل ہوئ

Photograph by: Abdul Saboor Akhter

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
Wanderer.in.the.Cosmos
Guest
Wanderer.in.the.Cosmos

Beautifully portrayed