میں دیکھ آئ تھی نم آنکھ میں وہ لال رنگ۔

میں دیکھ آئ تھی رنگین مزاج میں بے نیازی کا امتزاج۔

میں دیکھ آئ تھی خاموشی میں دبے، دہکے دہکے، لاوے ابلتے شور۔
میں دیکھ آئ تھی مسکان میں چھپے حسرتوں کے جلتے بجھتے دیپ۔
مگر کیوں؟
کیوں مجھے یہ سب دکھایا گیا؟؟
کیوں مجھے اس سب سے روشناس کروایا گیا؟
مجھے نہیں پانا کسی سوال کا جواب، کہ جواب اب میں خود بنتی ہوں۔
مجھے نہیں چاہ طلسم ہوشرباوں کے رموز کی، کہ اب میں خود میں طلسم ہو گئ ہوں۔
مجھے نہیں چاہئے نالہ نیم شب سے آشنائ، کہ شب اب خود مجھے تک نیر پہنچاتی ہے۔
میں رونا نہیں چاہتی تھی مگر میں رو رہی تھی۔
میری خود سے ملاقات یوں جاری و ساری تھی جیسے محبوب کی زلفوں کی گھنی شام میں کوئ مہتاب کھل اٹھے اور زلفوں سے روشنی پھوٹ پڑے کہیں شام کا، شب کا شائبہ نہ رہے۔۔
میرے بھی سب شائبے مٹ رہے تھے۔۔
سب اجلا تھا۔۔ سب روشن تھا۔۔ سب واضح تھا۔
مجھ پر عیاں ہو رہا تھا میرا بھید،
میری آنکھ کا وہ لال رنگ۔۔۔۔
وہ لال رنگ میرا عشق تھا۔
اس لال رنگ میں چھپا وہ “نم” ہی تھا جس نے میرے من میں عرصہ دراز سے مقید، عمر رسیدہ ، بوسیدہ مٹی کو بہکائے رکھا، زندہ و جاں ودا رکھا۔
مگر کیسے؟
کیسے میں نے جانا کہ لاوے دبے دبے سے کیوں ہیں؟
برف آنسووں میں مچلتا سکوت آگ کیوں برساتا رہا؟
مگر مجھے نہیں جاننا تھا۔۔
مجھے نہیں سوچنا تھا ۔۔ سوچ کی قبر پر پھول آنکھوں سے نچھاور کروں یا مجذوب اداسی سے چھلکتے نوحوں کی سسکاریاں نذر کروں؟؟
مجھے نہیں لڑنا تھا مگر میں جھگڑ رہی تھی۔۔
میری خود سے جنگ چل رہی تھی۔
میری خاموشی کے تھپڑ، میرے لفظوں کو رلا رہے تھے۔
میں رو رہی تھی۔۔
ہاں میں ایک بار پھر رو رہی تھی۔۔
آنسووں کی لڑیاں چھپ چھپ میرے من کو بھگو رہی تھیں۔
مجھ پر عقدہ کھلا تھا۔۔
ہاں مجھ پر یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ وہ سکوت کیا تھا ؟؟
کیوں میری خاموشی ہمیشہ بین کرتی رہی؟؟
وہ لال رنگ کا سکوت تھا ، جو لبوں سے جاری تھا۔۔
جو لفظوں پر حاوی تھا۔
وہ لال رنگ مجھ میں نئے برگ و گل کھلا رہا تھا۔۔
نئے جذبے سدھار رہا تھا۔
میرے وجدان میں ہر طرف نم ہی نم تھا۔۔
رنگ ہی رنگ تھا۔۔
وصل ہی وصل تھا۔
شاید میں اپنا اصل پا چکی تھی۔۔
مگر قرب کا کرب جان لیوہ تھا۔
میں کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔ مگر میں کھو رہی تھی۔۔ خود سے خود کو جدا دیکھ رہی تھی۔
یہ کیسا فقدان کہ نزدیک رگ جاں ہو کر بھی بہت دور کھڑی تھی میں، اک حسرت پل رہی تھی اک آہ چل رہی تھی۔۔۔ کاش میں خود میں گھل جاوں ۔۔۔ اس لال رنگ میں رنگی جاوں۔۔ کہیں جوگن ہی بن جاوں۔
مجھے بھیک نہیں مانگنی تھی، مگر میں کشکول تھامے کھڑی تھی۔
اپنے رنگ کی دید کی ایک ادنی سی خواہش لئے میں کھڑی تھی۔
مجھے نمناک نہیں ہونا تھا مگر میں نم کی نمی سے بھیگ رہی تھی۔
ہاں میرا لال رنگ مجھ میں سما رہا تھا اپنی تمام تر نمی کے ساتھ ۔
وہ نمی جو مجھے زندہ کئے ہوئ تھی۔
میرا رنگ میرے سامنے تھا، میرا عکس بن کر۔۔ میرا آئینہ بن کر۔
میں آشنائ پا چکی تھی اس لال رنگ کی روشنائ سے
میں خود سے جیت چکی تھی۔
اب میرے سکوت میرے لفظ ہیں۔۔
اب میرے آنسو میری مسکان ہیں۔۔
اب میری اداسی میرا وصل ہے۔۔
اب میرا کرب میرا قرب ہے۔۔
میری وحشت پر اب لال رنگ کی دہشت طاری ہے۔۔
میرا خوف اب خود سے خوف زدہ ہے۔۔
میری مسکان پربے اعتنائ کے ایسے ڈھیر تھے کہ جمود کا شائبہ ہو چلا تھا۔۔ مگر اب میری مسکان دہک چکی تھی۔۔ سب جمود زائل ہو چکا تھا۔
میری خود سے ملاقات مکمل ہو چکی تھی۔۔
میرا رنگ میرے تمام احساسات پر قابض ہو چکا تھا۔
میری جنگ ختم ہو چکی تھی۔
وہ رنگ جس نے مجھے آئینہ دکھایا تھا۔
مگر اس دیکھنے دکھانے کے عمل میں، میں کیا کھو چکی اور کیا پا چکی تھی اس کی اہمیت کھو چکی تھی۔
صرف تھا تو میرا رنگ ساز آئینہ، جس میں، میں جو چاہوں جیسا چاہوں دیکھ سکوں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of