کَبھی یُوں بھی ہو ہم ساتھ چلیں
کَبھی بُھولے سے تم راہ بُھولو
پھر اُن لمحوں کی سیر کریں
جن لمحوں میں ہم جیتے تھے
جب فکر سے خالی دنیا تھی

جب ڈر کو بھی ڈر لگتا تھا
اُس یاد کو پھر سے یاد کریں
بے خوف ، زمانہ جھیلیں ہم
کیا وقت ستم گر ہوتا ہے ؟؟
ہر ہر قصّے کے حاصل میں ؟؟

سب وقت کو مات بھی دیتے ہیں
تھوڑی ہمّت سے کچھ حوصلے سے
چلو وقت کو پھر حیران کریں
ہم وفا کی رسم کو عام کریں
ہم راہ چلیں تم ساتھ نہ ہو
اِس رسم کو اب اختتام کریں
اسر یٰ فرہاد

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of