رات کے تقریباً دو بج کر پینتالیس منٹ ہوۓ تھے کے جب وہ گھر میں داخل ہوا ۔ اس کے گمان کے عین مطابق گھر میں سب سو رہے۔ اس نے آہستہ سے گھر کا مین ڈور بند کیا اور پھر بغیر کوئی آواز کیے گھبراتا ہوا آہستہ آہستہ اپنے مکان کی چھت کی جانب بڑھ گیا۔ پریشانی اور گھبراہٹ اس کے اعصاب پر اس قدر قابض تھی کے گھر میں داخل ہوتے وقت اور پھر مین ڈور سے چھت کے لیے جانے والی سیڑھیوں تک کا سفر طے کرتے وقت بھی وہ کچن میں کھڑی اس کی راہ تکتی اسکی والدہ فہمیدہ بیگم کو نظرانداز کر گیا۔
یہ اس ہفتے میں تیسری مرتبہ ہوا تھا کہ وہ یونیورسٹی سے سیدھا دوست کے گھر پڑھنے جانے کا بول کر گیا تھا اور رات میں دیر سے ہی گھر آیا تھا۔ لیکن آج خلافِ معمول وہ کچھ زیادہ ہی دیر سے آیا تھا اور اس کا سیدھا چھت کی جانب جانا فہمیدہ بیگم کو کچھ خٹک رہا تھا لیکن رات کے اس پہر میں عثمان سے اس موضوع پر بات کرنے سے زیادہ بہتر انھیں صبح کا وقت لگا۔
وہاں دوسری طرف عثمان چھت پر موجود چار پائی پر بیٹھا آسمان کو تقریباً ایک گھنٹے تک تکتا رہا۔ مانو کسی چیز کے بارے میں شدت سے سوچ رہا ہو اور پھر ایک گھنٹے کی مسلسل جدوجہد سے آنکھوں میں نیند کا زور بھاری پڑتا محسوس ہوا تو وہی پیر پھیلائے اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔
اس کی آنکھ اس وقت کھلی کہ جب صبح کے دس بج چکے تھے۔ کیونکہ کراچی میں مئی کے مہینے کی وہ تپتی دھوپ اسے نیند سے بیدار کرنے کے لئے کافی تھی۔ اس نے چھت ہی پر لگے واش بیسن سے ہاتھ منہ دھوے اور نیچے اتر کر سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ گھر میں حسب معمول جمال عابد دفتر کے لئے نکل چکے تھے جبکے ہانیہ رات بھر تیز بخار ہونے کے باعث اسکول نہیں گئی تھی۔ فہمیدہ بیغم ملازموں سے گھر صاف کروانے میں مصروف تھیں کے جب انکی توجہ ملازم سے ہٹ کر اپنے صاحبزادے کی طرف گئی جو ابھی ابھی چھت سے اتر کر اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔ ایک بار پھر پریشانی کے بادل انکے گرد منڈلانے لگے۔ وہ گھر کے مین ہال مے رکھے صوفہ پر بیٹھ گئی اور عثمان کا کمرے سے نکلنے کا انتظار کرنے لگی۔ تقریباً 20 منٹ بعد اندر سے ایک صاف ستھرا خوبرو نوجوان ایک فارمل سی ڈریسنگ میں دائیں کندھے پر اپنا بیگ لٹکاۓ یونیورسٹی جانے کے لئے باہر نکلتا ہی ہے کہ سامنے بیٹھی اپنی والدہ کو دیکھ کر اپنے چہرے پر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ سجا لیتا ہے۔ اس کی یہ مسکراہٹ فہمیدہ بیگم کی پریشانی کو کافی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کمرے سے باہر نکال کر وہ سیدھا اپنی ماں کے قدموں میں جا بیٹھتا ہے اور ان کے ہاتھوں کو چوم کر کہتا ہے “‏‏ماں!! آج بڑا دن ہے دعا کرنا سب اچھا ہو جائے”
اس کا یہ جملہ سن کر نہ جانے کیوں فہمیدہ بیگم کی ممتا بھر آتی ہے۔ اور ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسووؑں کی بوندیں اس بات کی تائید ہوتی ہیں کہ انہوں نے اسے دل سے دعا دی ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے ہانیہ کے سر پر بھی شفقت سے ہاتھ پھیرا جو ابھی بھی سو رہی تھی اور وہ خدا حافظ کہتا ہوا گھر سے باہر نکل آیا۔
لیکن گھر سے نکلنے کے بعد وہ یونیورسٹی نہیں گیا۔ یونیورسٹی میں امتحان شروع ہوتا ہے اٹینڈینس کے وقت اسکا نام پکارا جاتا ہے مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آنے پر اسکی غیر حاضری لگا دی جاتی ہے۔ اسکی کلاس کے باقی سبھی طالبات کے لئے یہ بات غیر معمولی نہیں تھی کیوں کہ جب سے یونیورسٹی شروع ہوئی تھی تب سے اب تک ِان پچھلے کچھ مہینوں میں اسکا یونیورسٹی میں رویہ کچھ مشکوک ہی سا تھا مگر سالار کے لئے یہ بات بلکل غیرمعمولی تھی۔ سالار اسکا بچپن کا دوست تھا۔ اسکول کے زمانے ہی سے وہ ایک دوسرے کے سب سے بہترین دوست تھے۔ اگر انہیں یک جان دو قلب کہا جاۓ تو غلط نہیں ہوگا لیکن پچھلے کچھ مہینوں سے عثمان کا یہ روّیہ سالار کے لئے بھی تشویش کا باعث تھا اور پھر آج امتحان میں عثمان کی غیرحاضری سالار کو بیحد پریشن کرنے کے لئے کافی تھی۔ یونیورسٹی میں پہلے سال کا پہلا سیمسٹر اور اسکول سے کالج تک اوّل آنے والا ہونہار طالبعلم آج یونیورسٹی کے امتحان میں غیرحاضر۔ عثمان میڈیکل یونیورسٹی میں ایم۔بی۔بی۔ایس کا طالب علم تھا جو میریٹ پر کراچی کے مشہور اور معروف یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔
امتحان ختم ہونے کے بعد سالار نے بغیر کوئی وقت ضایع کیے عثمان کو فون کیا مگر اسکا فون مسلسل بند جارہا تھا جس نے سالار کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا۔
امتحان ختم ہونے سے شام ہونے تک سالار نے عثمان کو درجنوں فون کیے مگر بدستور جواب نہ موصول ہونے پر بلاخر سالار نے عثمان کی والدہ سے اسکے اس بدلتے برتاؤ کے متعلق بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ مغرب کی نماز سالار نے عثمان کے محّلے ہی میں ادا کی اور نماز کے فوراً بعد وہ عثمان کے گھر پہنچ گیا۔ دروازہ فہمیدہ بیگم ہی نے کھولا تھا۔ سالار کو دروازے پر اکیلا کھڑا دیکھ کر وہ حیران اور پریشان دونوں یک دم ہوئی۔ انکے چہرے کے تاثرات اس بات کا واضح ثبوت تھے۔ بہرحال اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوے انہوں نے سالار کو گیسٹ روم میں بٹھادیا اور اسے مخاطب کرتے ھوۓ پوچھا “بیٹا عثمان کہاں ہیں؟ اور تم یہاں اس وقت؟ سب خیریت تو ہے نا؟” فہمیدہ بیگم کے سوال کو جواب میں تبدیل کرتے ہوے سالار نے اپنی خاموشی توڑی اور بولا “آنٹی اسی سوال کا جواب میں آپ سے جاننے آیا ہوں کے آخر عثمان ہے کہاں؟ اور آج اس نے یونیورسٹی کا امتحان کیوں نہیں دیا ؟ سالار کے اس جملے سے فہمیدہ بیگم کے پیروں تلے زمین نکل گئی “یہ کیا کھ رہے ہو بیٹا تم؟ عثمان تو صبح گھر سے یونیورسٹی کے لئے ہی نکلا تھا۔ “آخر وہ پھر یونیورسٹی کیوں نہیں آیا؟ ” سالارکچھ سوچتے ہوۓ آہستہ سے بولا ” آنٹی دراصل آج میں آپ سے عثمان کے اس بدلتے برتاؤ کے متعلق ہی بات کرنے آیا ہوں” سالار نے بات جاری رکھی “عثمان پچھلے کچھ مہینوں سے عجیب برتاؤ کرہا ہے۔ یونیورسٹی سے غیر حاضر رہنا ، اگر کبھی یونیورسٹی آ بھی جانا تو خاموش رہنا کسی سے میل جول نہ رکھنا۔ میں اُسے بچپن سے جانتا ہوں مگر اُسنے کبھی بھی اس طرح کا برتاو نہیں کیا چاہے کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو وہ ہمیشہ مشکلات کا سامنہ ہمّت سے کرتا تھا پھر آخر اب کیوں عثمان جمال اس ترہان کا برتاؤ کرہا ہے ؟ معاف کیجئے گا آنٹی پر میں جاننا چاہتا ہوں کے کیا آپ کے گھر میں کچھ مسائل چل رہے ہیں کہ جنہوں نے عثمان کو اتنا ڈسٹرب کردیا ہے؟ ” سالار نے اپنی بات ختم کرتے ہوے فہمیدہ بیگم کی جانب دیکھا ۔
فہمیدہ بیگم جو ابھی تک سالار کی بات خاموشی سے سن رہی تھی بالآخر اپنی بھر آئ ہوئی آواز میں جواب دیتی ہیں “نہیں بیٹا گھر میں تو ایسا کچھ نہیں ہورہا کے جس سے عثمان پریشان ہوجاۓ ” اور رہی بات اسکے بدلتے برتاؤ کی تو وہ میں بھی اسمے کافی وقت سے محسوس کرہی ہوں” فہمیدہ بیگم کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسوں سالار واضح طور پر دیکھ سکتا تھا۔
اگر گھر میں بھی کچھ مسلہ نہیں تو پھر آخر کیا چیز ہے جسنے عثمان کی زندگی پر اتنا گہرا اثر ڈالا ہے؟
سالار نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیا۔ اس بار دوسری جانب سے کوئی جواب نہ آیا۔ دس منٹ تک کمرے مے خاموشی رہنے کے بعد سالار کو فہمیدہ بیگم کی سسکیاں اب واضح طور پر سنائی دے رہی تھیں۔
عثمان کے گھر سے واپسی پر سالار نے عثمان کی والدہ کو تسلی دی کہ وہ عثمان کو پہلا جیسا بنا کر ہی دم لگا۔ واپسی پر سالار نے فہمیدہ بیگم کو اس بات کی تاکید کی کہ وہ فلحال عثمان سے اسکے اس بدلتے برتاؤ کے متعلق بات نہ کریں ۔
رات کو تقریباً 10 بجے عثمان گھر آیا۔ فہمیدہ بیگم جو مصّلے پر بیٹھی بارگاہ ِرب ذلجلال میں ہاتھ اٹھاۓ دعا مانگ رہی تھیں یک دم عثمان کو دیکھ کر سجدہ شکر بجا لائی۔ انہوں نے سالار کی ہدایت کے مطابق عثمان سے سوال کرتے ہوے پوچھا ” بیٹا تمہارا امتحان تھا نہ آج؟ کیسا ہوا؟ “”اچھا ہوا!” عثمان نے نظریں چُراتے ہوے جواب دیا “کھانا لگوادوں؟” فہمیدہ بیگم نے اپنی انجانگی کو مزید جاری رکھتنے ہوے پوچھا “نہیں میں سالار کے ساتھ کھا کر آیا ہوں” عثمان نے ایک بار پھر جھوٹ کا سہارا لیا۔
فہمیدہ بیگم جو ابھی تک تو کافی مہارت سے اپنے آنسوں چھپانے مے کامیاب ہوئی تھی بالآخر ہار مان گئی اور اپنے آنسووؑں پر قابو نہ رکھ سکیں۔ عثمان اپنی والدہ کی آنکھوں سے بہتے آنسوں دیکھ کر حیران سا ہوگیا۔ فہمیدہ بیگم اپنی سسکیوں کو روکتے ہوے عثمان سے پوچھتی ہیں کہ “بیٹا کیا پریشانی ہے تمہیں؟ کیوں تم مجھ سے دن بہ دن جھوٹ بولنے لگ گئے ہو؟ کیوں تم الجھے الجھے سے رہنے لگ گئے ہو؟ کیوں تم یونیورسٹی سے غیر حاضر رہنے لگ گئے ہو؟ گھر میں یونیورسٹی کا بول کر آخر کہاں جانے لگ گئے ہو؟ اور پھر آج امتحان میں تمہاری غیرحاضری؟ آخر تمھارے اندر ہوتی اس جنگ کی وجہ کیا ہے؟ ”
عثمان جو اب تک خاموشی سے اپنی والدہ کی بات سن رہا تھا بولنے کی ہمّت کرتا ہے مگر اس بار عثمان کا دل بھر آتا ہے ، ٹپکنے والے آنسوں اس بار عثمان کے ہوتے ہیں جو اسے بولنے سے روک رہے ہوتے ہیں اسکے ہونٹوں پر ہوتی لغزش، اسکی کپکپاہٹ اسکی شرمساری کا علی آلاعلان ثبوت دےرہی ہوتی ہے ، وہ ہونٹ کو ہلا تو رہا ہوتا ہے مگر الفاظ اسکی زبان سے نکل نہیں پا رہے ہوتے چند منٹ کی خامشی کے بعد ایک آواز کمرے مے گونجتی ہے “امی مجھے معاف کر دیجئے پر میں ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا” یہ وہ جملہ تھا جس نے فہمیدہ بیگم کو سکتہ میں ڈال دیا۔ میرٹ پر میڈیکل کالج میں پڑھنے والا ہونہار طالب علم بلآخر اپنے دل کا گبار ہلکا کرنے شروع کرتا ہے “امی جان ” عثمان ایک بار پھر اپنی والدہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں مے تھام کر کہنا شروع کرتا ہے “امی جان آپ ہمیشہ سے کہتی تھی کہ انسان صرف اس وقت ہی کامیاب ہوتا ہ جب وہ وہ کام کرتا ہے جس میں اسے خوشی ملتی ہے اور میری خوشی ڈاکٹر بننے میں نہیں!” عثمان کی زبان سے نکلے یہ الفاظ اپنے اندر اتنی تاثیر رکھتے تھے کے اگر یہ الفاظ عثمان کے والد جمال عابد سن لیتے تو شاید انھیں اب تک دل کا دورہ آچکا ہوتا کیوں کے جمال عابد کا زندگی میں ایک ہی خواب تھا کہ وہ اپنے والد عابد حسن کا خواب جو وہ پورا نہیں کرسکے تھے اپنے ایکلوتے صاحب زادے کے ذریے پورا ہوتا دیکھنا چاھتے تھے اور کافی حد تک وہ اپنی اس کاوش مے کامیاب بھی ہوچکے تھے مگر عین کامیابی ملنے سے چند قدم دور ،انکے خواب پورا ہونے سے صرف چند سال قبل اگر انھیں یہ پتہ چل جاتا کے انکا خواب اب پورا نہیں ہوسکتا تو یقیناً وہ ٹوٹ جاتے ۔
“میں دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے سات دن، محض ہر لمحہ ہر پل صرف اس ہی کشمکش میں گزارتا ہوں۔ کتابیں اٹھاتا ہوں تو میرے خواب مجھے اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ شاید میں نے اپنے آپ سے اپنے ان کچھ پاکیزہ خوابوں سے جنہیں میں بچپن سے اپنے دل مے پالتا آیا ہوں انکے ساتھ ناانصافی کی ہے” عثمان اپنی دلی جذبات کو اپنی زبان پر آہستہ آہستہ لا رہا تھا۔ میں نہیں چاہتا کے میں بابا کا خواب توڑوں یا اپنے خوابوں کو بابا کے خواب پر فوقیت دوں مگر میرے اندر ہونے والی یہ کشمکش میرے خواب اور بابا کے خواب کے درمیان ہونے والی اس جنگ کے درمیان میں یعنی عثمان جمال زندگی کی بازی ہار جاؤں” یہ کہکر عثمان خاموش ہوتا ہی ہے کے اچانک کمرے میں ایک بھاری مگر پروقار آواز فہمیدہ بیگم اور عثمان کے کانوں میں گونجتی “میرے خواب میرے بیٹے کے خوابوں سے وابستہ ہیں، میرا بیٹا جو چاہتا ہے میں اسے وہ کرنے کی اجازت دیتا ہوں” جمال عابد کے یہ الفاظ عثمان جلال کی زندگی پر کچھ اس قدر گہرا اثر چھوڑ گئے کے آج اس واقع کو گزرے آٹھ برس بیت چکے ہیں اور اب عثمان عابد پاکستان کی مشہور و معروف شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو اب تک اپنی سحرگوئی سے لاکھوں افراد کی زندگیاں تبدیل کر چکا ہے اور دنیا بھر میں ایک بہترین موٹیوشنل اسپیکر کے طور پر جانا جاتا ہے۔

 

Picture courtesy: Sakina Rizvi

2
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
umang
Guest

wowowow

Areeba
Guest
Areeba

These words made me cry..
You seriously can be a motivational speaker.