۔
آہ! کہ تو میری تنہائیوں کا سودائی

میرے آنسووں کی مسکان
میری آنکھ کی آلودہ شبنم
واہ! کہ تو میری ویرانیوں کا بادشاہ
میرے خالی دل کا وارث
میری اجڑی امنگوں کا دلاسا
اس آہ اور واہ کے سفر میں
عین ممکن ہے کہ
بلکتے لفظوں کا عکس بن جائے
عین ممکن ہے کہ
تیری آنکھ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر
میری مجذوب اداسی سے جا ملے
سسکیوں میں ڈوبے
ٹھٹھرتے آنسووں کو
جب برف بنتے دیکھا
تو یہ جانا کہ
سسکتی شام کیسی ہے
ٹھٹھرتی رات کیسی ہے
سسکنے اور ٹھٹھرنے کے سفر میں
عین ممکن ہے کہ
غم کے شعلے سلگ جائیں
ہوا میں آگ لگ جائے
تخیل میں میرے جو تیری نمی ہے
وہ یہ کہہ رہی ہے
تجھے ہنسا کر تجھے بسا کر
تیری کلائیاں میں بانجھ کر دوں
میں پھر سے تجھ کو اجاڑ دوں
ہنسنے اور بسنے کے سفر میں
عین ممکن ہے کہ
تخیل سے میرے اب کرب ٹپکے
لہو کی مانند فریاد ٹپکے
مگر!
سن اے میری بے نام قربتوں کے خالق
سن کہ ہوا رخ بدل رہی ہے
بکھرتی زلفیں نکھر رہی ہیں
سلگتے غم اب راکھ ہوئے ہیں
وہ راکھ سپنے بکھیر رہی ہے
یہ آج جانا کہ کون تھا وہ
جو روتے ہوئے کو ہنسا رہا ہے
ویرانیوں کو بسا رہا ہے
روٹھا ہوا اک وصال تھا وہ
جو صدیوں پہلے جا چکا تھا
اور تاک میں تھا کہ
کب میں چھلکوں اور کب یہ لپکے
کب میں اجڑوں اور کب یہ جھپکے
وصال یار جو یوں آن پہنچا
تو ہجر کو میرے مات ہوئی ہے
ہری کلائیاں اور مانگ کا صندور
جب پھر سے میں نے نکھرتے دیکھا
تو یہ جانا کہ
کرب کی لہر اب گزر چکی ہے
ہوا اب سچ یہ بول رہی ہے

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
Fariha
Guest
Fariha

بهترین!!