رجاء اور شجا کو سوہا اور حریم کی نگرانی میں گھر کے صحن میں بات کرنے کے لیے بھیجا گیا۔وہ دونوں زینے کے پاس کھڑیں ہوگئیں ۔ جب کہ شجا اور رجاء صحن کے درمیاں رکھی کرسیوں پر جاکر بیٹھ گئے۔
وہ سفید کاٹن کے کُرتا زیب تن کیے تھا تو رجاء نے گلابی رنگ کی اٙنگرکھا فراک پہنی تھی۔پیروں میں کُھسے تھے اور شجا نے کیھڑی پہنی تھی ۔رجاء نظریں جھکائے سوچنے میں مصروف تھی کے وہ اس گھیری آنکھوں والے سے کیا سوال کرے؟ شجا نے ہی پہل کری۔
“یقیناً آپ سوچ رہی ہوں گی کہ میرے والدین ہیں یا نہیں ؟”شجا کی آواز پر رِجاء نے سٙر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جس نے حریم کی طرف ہلکا سر ہلا کر اشارہ کیا تھا۔یعنی ہم سے مراد وہ اور حریم۔
“وہ ہیں۔۔اسی ملک میں۔۔اسی شہر میں۔۔۔” وہ رُکا۔  “مگر مجھ سے انجان۔ “وہ اداس مسکراہٹ کے ساتھ رجاء کو دیکھ رہا تھا۔شاید رجاء کو اسکی آنکھ میں آنسو نظر آئے تھے۔
“رجاء کبھی موت کی تاریکی دیکھی  ہے؟ موت نہیں صرف اسکی تاریکی؟”وہ کھوۓ کھوۓ انداز میں کہہ رہا تھا اور پھر اگلے لمحے چہرے پر ہاتھ پھیر کر مسکرایا۔
“آپ بھی سوچ رہی ہوں گی کہ کیا دیوانہ ہے یہ۔ ھمارے گھر والوں نے ہماری نئی زندگی کے حوالے سے باتیں کرنے کے لیے بھیجا تھا اور یہ جناب موت کی تاریکی پوچھ رہے ہیں۔” شجا نے نچلے لب کو دانتوں میں دبا کے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ کہا مگر  رجاء نے کچھ نہیں کہا۔
“میں کیا کروں ؟ آپ سے ملنے سے پہلے میری زندگی کے پچھلے چار سال تاریکیوں میں ہی گزرے ہیں۔ مگر کوئی نہیں سمجھ سکا کے وہ درد اور تاریکی کیسی تھی ؟”شجا نے سر جھکایا رجاء نے دونوں کے  درمیان میں  ٹیبل پر رکھی کاپی اور جیل پین کو اٹھایا اور کچھ لکھنے لگی۔ شجا اُسے تجسُّس سے دیکھنے لگا ۔ رجاء نے پھر وہ کاغذ شجا کو دے دیا۔
“پتا ہے انسان کے لیے سب سے تکلیف دہ مرحلہ کونسا ہوتا ہے؟”اس نے رجاء کی لکھی تحریر کو پڑھا پھر نظر اٹھا کر رجاء کے چہرے کو دیکھا تو اس نے ایک اور کاغذ پر خود کی چند جملوں میں لکھی تحریر اسکے ہاتھ میں تھما دی۔ وہ اس تحریر کو پڑھنے لگا۔
“جب انسان کو درد بیان کرنے کے لیے الفاظ نہ ملے، وہ اگر کچھ کہنا چا ہے تو آواز حلق سے باہر نہ نکلے۔ اسکے الفاظ حلق میں ہی گُھٹ کے رہے جائیں۔وہ درد میں چیخنا چاہے تو صرف آنکھوں سے آنسو نکلے اور آواز اندر ہی دم توڑ دے۔ ایسے لمحات میں انسان کو موت کی تاریکی کا احساس ہوتا ہے۔ “اسکا حلق خشق ہو گیا اور کانپتی آنکھوں سے اس نے رجاء کو دیکھا جو ہاتھ میں چہرہ لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“کبھی کوئی نہیں سمجھ سکا تھا ۔ مگر آپ ۔۔؟”شجا نے جملہ ادھورا چھوڑ کر رجاء کے چہرے کو دیکھا جو اسی کی طرح مسکرا رہی تھی ۔ پھر رجاء نے کاغذ پر ایک اور تحریر لکھ کر شجا کو دی ۔ شجا نے مسکرا کر کاغذ کے اس ٹکڑے کو دیکھا
“میں بھی کسی تاریک راہ کی مسافر رہ چکی ہوں۔ اس لیے آپکی دشواری کو سمجھ سکتی ہوں۔”رجاء کی تحریر پر شجا کے چہرے پر بڑی دلکش مسکراہٹ پھیل گئی جسے دیکھ کر رجاء بھی مسکرائی تھی۔
“پھر سمجھداروں کو ساتھ رہنا چاہیے؟”شجا کے مزاحیہ سوال پر رجاء نے فوراً مسکرا کر  نہیں میں سر ہلایا۔شجا سر جھکاۓ بنا آواز کے ہسنے لگا۔
حریم نے سوہا کو آنکھ سے اشارہ کیا اور دونوں  لڑکیاں شجا اور رجاء کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ نا جانے کتنے عرصے بعد آج وہ یوں مسکرا رہے تھے۔ رجاء نے ایک اور کاغذ شجا کو دیا۔جس پر لکھا تھا کہ شجا کے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ  اس تاریک راہ کا مسافر بنا؟ ایک لمحے کو شجا کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔جسے دیکھ کر رجاء نے اشاروں کی زبان میں انہیں منع کیا کے اگر وہ نا بتانا چاہیں تو کوئی مسلئہ نہیں۔
“ارے نہیں۔۔ کوئی مسلئہ  نہیں بلکہ میں خود آپکو اسی کے بارے میں بتانا چاہتا تھا ۔”شجا نظریں چراتے ہوۓ ماضی کی زخموں کو کھریدنے کے لیے خود میں ہمت اکھٹا کرنے لگا۔
انسان چاہے جتنا بہادر ہو مگر دل پر لگے زخموں کے درد کو نظر انداز نہیں کر سکتا اور وہ زخم اپنی بیوقوفی سے لگا ہو تو پچھتاوا بھی اس زخم کو بھولنے نہیں دیتا۔ شجا کو درد اور پچھتاوا دونوں تھے اور آج وہ پھر جینے کے لیے زخموں کو کھول رہا تھا۔
“چار سال پہلے میں اور میری بہن زنیزہ ڈیڈ کی گاڑی میں رات سیر کے لیے نکلے تھے۔چاند رات تھی اسکی عید کی خریداری باقی تھی۔ہم دونوں سب گھر والوں سے چھپ کر نکلے تھے۔ وہ بہت خوش تھی اسے گاڑی چلانی تھی میں نے منع کیا۔مگر اس نے کہا کے وہ مجھ سے کبھی بات نہیں کرے گی۔”شجا کہتے کہتے رکا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور رجاء کی شہد جیسی آنکھوں میں دیکھا۔
“رجاء میں نے اسکی بات مانی تھی. پھر  وہ کیوں ناراض ہو کر چلی گئی؟”شجا کے درد چھلکتے لہجے میں پوچھے گئے سوال پر رجاء نے بھنویں جوڑ کر اسے دیکھا۔
“اس رات وہ گاڑی ڈرائیو کررہی تھی۔۔۔ مگر تیز رفتار کی وجہ سے ہماری گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی اور زنیزہ مجھے چھوڑ گئی۔ میرے سامنے دم نکل رہا تھا اسکا میری آواز اندر کہیں دم توڑ گئی تھی۔ ” شجا نے آخر میں گہری سانس لی ، رجا۶ حیرت میں ڈوبی نظروں سے اسے تک رہی تھی۔
“مما مجھے اسکی موت کا زمہ دار ٹہراتی ہیں۔  مجھے دیکھ کر انھیں زنیزہ کی موت یاد آتی ہے ۔اس لیے اس حادثے کے بعد میں ان کے ساتھ نہیں رہتا۔ ڈیڈ اور حریم مجھ سے ملنے آجاتے ہیں۔ پر مما اور باقی بہن ، بھائیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا ۔”شجا نے افسردہ لہجے میں کہا اور پھر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“یہ میری تاریک راہ کی کہانی تھی اور آپکو ملنے کے بعد مجھے اس راہ میں روشنی نظر آ ئی ہے۔ جسکی سمت میں چل پڑا ہوں۔ رجاء میں آپکی بہادری کو پسند کرنے لگا ہوں اور آپکا ساتھ چاہتا ہوں۔ مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کے آپ بھی مجھے پسند کریں۔اس حوالے سے آپکا جو بھی فیصلہ ہوگا میں اسکا دل سے احترم کرونگا۔”شجا نے تسلی بخش لہجے میں کہا۔رجاء نے سر جھکا کر کاپی پر کچھ لکھا اور کاپی اٹھا کر شجا کو دکھائی۔
شجا نے حیرانی سے وہ دو الفظ پڑھے اور پھر رجاء کی چہرے کو دیکھا جو مسکان سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔ کاپی کے صفحے پر رجاء نے ایک تحریر میں نئے سفر کی ندا دی تھی۔”مجھے آپکا ساتھ قبول ہے” کسی نے پہلی بار رجاء کو اپنی زندگی میں روشنی کی مانند سمجھا تھا اور رجاء جانتی تھی کے اندھیرے میں بھٹکے مسافر کے لیے روشنی کیا اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس نے یہ رشتہ قبول کر لیا کیونکہ اسے نہیں معلوم کے زنیزہ کو کھونے کے بعد تو شجا زندگی کی طرف لوٹ آئے مگر کیا رجاء کے انکار کے بعد بھی وہ روشنی کی طرف گامزن رہیں گے یا پھر اندھیروں کی طرف لوٹ جائیں گے؟
•••••••
شجا اور رجاء کی نسبت کو چار دن گزر گئے تھے ۔ رجاء آج حریم کے ساتھ اپنے سسرال جا رہی تھی کسی کو بھی اس بات علم نہیں تھا سوائے رجاء کے والدین کے۔ رجا ء کو سمجھ آگیا تھا کے یقیناً شجا خود بھی اس رشتے میں اپنے والدین کی رضامندی چاہیۓ اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کے انکے والدین بھی انکے اس نئے صفر میں شریک ہوں ۔ مگر ماضی کی وجہ سے وہ اپنی مما کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اس لیے رجاء نے سوچا کیو ں نا وہ خود شجا کی مما سے بات کریں تاکے ماں اور بیٹے کے درمیان یہ دوریاں مٹ سکیں۔ دونوں لڑکیاں  صبح شجا کے ڈیڈ کے گھر پہنچ گئیں ۔ حریم نے رجاء سے سب کا تعارف کرایا۔ پھر رجاء مسز قاسم کے کمرے میں چلی گئی جو شجا کی مما ہیں۔رجاء نے انھیں بھی لکھ کر سمجھایا کیونکہ وہ بھی رجاء کی زبان سمجھ نہیں سکتی تھی۔ جو لوگ رجاء کی باتیں سمجھ نہیں سکتے تھے۔ رجاء انھیں یونہی سمجھاتی تھی کیونکہ انسان کسی کی بات سن کر اٙنّ سنا کر دیتا ہے  مگر کسی کی لکھی تحریر جب بھی کوئی پڑھتا ہے تو اسے پڑھ کر بات کو ضرور سوچتا ہے ۔
رجاء نے کاغذ پر لکھا تھا کے ایک بار مسز قاسم خود کو شجا کی جگہ پر رکھیں۔ خود سوچیں کے اگر وہ اس رات زینزہ کے ساتھ ہوتی تو اور مسٹر قاسم ان  کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جیسا انھوں نے شجا کے ساتھ کیا۔ تو وہ کیسا محسوس کرتیں ؟
مسز قاسم نے کچھ بھی نہ کہا رجاء سمجھ گئ کے انکے الفاظ اثر کر گئے۔وہ خاموشی سے کمرے سے باہر آگئ۔ اس سے پہلے وہ حریم کو ڈھوندتی رجاء کو شجا کی چھوٹی بھابی مل گئی اور انکے طنزیہ تیروں نے رجاء کو بری طرح زخمی کردیا۔ رجاء اسے کچھ کہے بنا گھر سے باہر نکل گئی۔حریم اپنی مما کے کمرے میں رجاء کو لینے گئی تو مسز قاسم نے اسے بتایا کے رجاء کافی دیر پہلے کمرے سے باہر جا چکی ہے۔ حریم نے اسے گھر میں تلاش کیا مگر وہ نہیں ملی پھر ملاذمہ نے بتایا کہ رجاء کافی دیر پہلے باہر جا چکی ۔حریم نے کال کی تو رجاء کا نمبر بند  تھا۔ حریم نے اپنی دونوں بھابیوں سے پوچھا جو شجا سے بڑے اور چھوٹے بھائی کی بیویاں تھیں۔پھر حریم کو پتہ چلا کے اسکی چھوٹی بھابی نے رجاء کی چھوٹے طبقے سے تعلق رکھنے اور اسکی بے زبانی کا مذاق بنایا تھا۔جس پر رجاء دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے چلی گئی۔حریم نے فوراً شجا کو کال ملا کر ساری بات بتا دی.
اگر انسان اپنی زبان کو شیرنی رکھے تو رشتوں میں کڑواہٹ نہیں پڑتی۔ مگر کچھ لوگ زبان میں ہڈی نہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور بنا سوچے سمجھے دوسروں کے دل زخمی کرتے چلے جاتے ہیں۔

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
Fariha
Guest
Fariha

Please keep updating new episode every month. I just love this story..