وہ سانولی رنگت والی سمندر کی لہروں کو دیکھ رہی تھی۔ سمندر کی ہواؤں سے اسکے سر پر اوڑھا دوپٹہ سٙر سے سِرک رہا تھا مگر اس نے ایک ہاتھ سے دوپٹے کو بھینچ کر رکھا جسکی وجہ سے دوپٹہ سٙر پر ٹِکا تھا۔ اتوار کے دن کی نسبت آج یہاں اتنا رٙش نہیں تھا۔ ناجانے یہ گہرے سمندر کی سرد ہوائیں اسے ہمیشہ سے ہی عجیب سکون اور خوشی بخشتی تھی۔ ویسے تو وہ کافی بار یہاں اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منانے آچکی تھی لیکن آج پہلی بار اکیلی یہاں آئی تھی۔ ریت پر بیٹھے اس نے گُٹھنوں کے گِرد باہوں کو سکیڑ کر ان پر اپنا ایک رخسار رکھتے فاصلے پر ایک فیملی کو دیکھا۔

وہ اندازاً شاید بارہ افراد ہونگے۔ سب ہسی خوشی سمندر کے قریب کھڑے انجوائے کر رہے تھے۔ سمندر کا پانی انکے قدموں کو بھگوئے ہوے تھا۔ رجاء کی سوچ اُس وقت متاثر ہوئی جب اسکے ہینڈ بیگ سے موبائل کی گُھٹی ہوئی آواز آئی۔ اس نے موبائل نکال کر نام دیکھا۔ پھر افسوس سے کال کاٹ دی اور میسج ٹائپ کیا اور مطلوبہ نمبر پر ارسال کیا۔ پھر چہرہ اٹھا کر ایک سانس بھر کر سامنے سمندر کی لہروں کو دیکھتے اپنی سوچ کے سمندر میں ڈوب گئی۔ کچھ لمحوں بات ایک آواز نے اسے سوچ کے سمندر سے نکال حقیقت کے ساحل پر لا کھڑا کیا ۔
“اسلام و علیکم۔” پُر کشش آواز پر رجاء نے چونک کر پیچھے دیکھا تو وہ گہری آنکھوں سے مسکرا کر اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بھوری رنگ کی پینٹ اور سفید شرٹ پر ڈھیلی ٹائی گردن میں لٹکی تھی۔ رجاء نے جواب میں مسکرا کر صرف سٙر خم کیا تو شجا مسکرا کر سمندر کی ہوا سے اپنے بے ترتیب بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسکے پاس ذرا فاصلہ برقرار رکھے ریت پر بیٹھ گیا۔
“سنا ہے میرے گھر والوں نے بڑا پُرتپاک استقبال کیا ہے؟” شجا نے لہروں پر نظر رکھتے تھوڑا رجاء کی جانب جھکتے شوخ انداز میں کہا اور اپنی مسکراہٹ کو لبوں میں دباتے دوبارہ اسطرح بیٹھ گئے کہ پئروں کو سامنے قینچی شکل میں رکھا اور ہتیلیوں کو پیچھے ریت پر رکھا ۔ رجاء نے اسکی جانب حیرانی سے دیکھا۔ “آپکو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔” شجا کی بات پر رجاء نے نظریں جھکائیں اور بیگ سے ڈائری اور پین ڈھونڈنے لگی۔ “کیا ڈھونڈ رہی ہیں؟” شجا نے حیرانی سے سوال کیا اور بیگ میں اسکے چلتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ رجاء کا دوپٹہ سمندری ہوا سے سِرک کر سر کے پیچھے گِر گیا تھا۔ رجاء نے اسکے سوال پر اشاروں کی زبان میں ڈائری اور پین کا کہا اور پھر دوبارہ بیگ میں تلاشنے لگی۔ تو شجا نے اسکی کلائی کو پکڑا رجاء نے فوراً سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
“رجاء میں آپکی بات سمجھ سکتا ہوں۔” شجا نے مسکرا کر کہا اور اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ رجاء نے مسکرا کر اپنی تلاش کو وہی روک دیا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شجا اسکی بات بغیر کاغذ اور قلم کے کیسے سمجھیں گے؟  اس نے اپنی ہتیلی پر دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کو مسلتے بات شروع کرنے کے لیے کچھ مناسب الفاظ کو دماغ میں ترتیب دینا شروع کیا۔ اسکی یہ الجھن دیکھ کر شجا نے ہی بات شروع کری۔
“بھابی نے جو بھی کہا میں اسکے لیے آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔” شجا نے نظریں جھکائے کہا تو رجاء نے فوراً ہاتھوں کو ہلا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔ “آپ کہہ رہی ہیں کہ میں معذرت نا کروں؟” شجا نے سوال کیا تو رجاء نے اثبات میں سر ہلایا۔ شجا نے بھویں جوڑ کر انھیں حیرانی سے دیکھا۔ ” مگر انھوں نے آپکی دل آزاری کری ہے۔۔” شجا کی بات پر رجاء نے انھیں مسکرا کر دیکھا اور ہاتھ سے چپ رہنے کی درخواست کری۔ پھر دوبارہ وہ اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔ “کہ بھابی کو جو کہنا ہے کہتی رہیں وہ ان سب باتوں کی عادی ہو چکی ہے۔” یہ بات سمجھ کر شجا نے سیدھے بیٹھ کر انھیں دیکھا۔
“رجاء ہم اگر لوگوں کو اپنی کمزوریوں پر بولنے کا موقع دیں گے تو وہ اول فول بولتے رہیں گے۔ اور لوگوں کی فضول باتیں سننا کوئی اچھی عادت تو نہیں ہے۔” شجا نے سنجیدگی سے کہا رجاء نے سمندر کی لہروں کو دیکھا۔ جبکہ شجا کی نظریں اس کے چہرے پر ہی تھیں۔ “اور میں جانتا ہوں آپ نے بھابی کی باتیں صرف اِس لیتے سنی کیونکہ وہ میری فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ورنہ آپ انکو بہترین جواب دے سکتیں تھیں۔” شجا کی بات سن کر رجاء نے اسکی جانب دیکھا۔ “انھیں جواب نا دینے کی، یہی وجہ تھی۔۔ ؟” شجا کے سوال پر رجاء نے کوئی تاثر نہیں دیا صرف نظر پھیر لی۔
“خیر۔۔ چلیں اُٹھیں۔ یہاں آئیں ہیں تو کچھ کھا بھی لیتے ہیں۔”وہ ریت کو ہاتھوں اور کپڑوں سے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ رجاء نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر اشاروں کی زبان میں پوچھا کہ شجا کو اسکی موجودگی کا کیسے پتا چلا۔ شجا نے مسکرا کر ایک نظر لہروں کی طرف دیکھا جو ساحل کو چھو کر واپس لوٹ رہیں تھیں۔ پھر مسکرا کر رجاء کو دیکھا اور ذرا سا کمر کو خم کرتے معنی خیز مسکراتے گویا ہوا۔ “مجھے اِلہام ہوا تھا کہ مس رجاء کراچی کے حسین سمندر کا منظر دیکھنے آئی ہوئی ہیں۔ تو میں بھی پیچھے پیچھے آگیا۔” شجا نے مسکرا کر کہا تو رجاء بھی مسکراہٹ سجائے بے یقینی سے سر ہلاتے اٹھ گئی اور اپنی فلیٹ سینڈلز پہن لی۔ اس نے گہرے سبز رنگ کی فراک ، پجامہ پہنا تھا۔ ہمرنگ ریشمی دوپٹہ سمندری ہوا میں لہرا رہا تھا۔
“چاٹ ، گول گپے یا پھر لٙچھے ؟” شجا نے پیچھے نظروں سے فاصلے پر لگے اِسٹال کی جانب دیکھ کر رجاء سے سوال کیا۔ رجاء نے ہاتھ کے اشارے سے چائے پینے کا کہا۔ شجا نے مسکرا کر ہامی بھری پھر دونوں واپس ساحل سے روڈ کی جانب چل دیے جہاں ایک چھوٹا ریسٹورینٹ تھا۔ شجا نے دونوں کے لیے disposable گلاس میں چائے لی اور ریسٹورینٹ کے ساتھ بنے فوٹ پاتھ پر چلنے لگے۔ رجاء نے پھر سے سوال دھورایا۔
“آپکو تھوڑی دیر پہلے حریم کی کال آئی تھی تو آپ نے اسے بتایا تھا کہ آپ یہاں پر ہیں۔”شجا نے جواب دے کر چائے کا گھونٹ بھرا۔ سمندر کی ٹھنڈی ہوا ، ابر آلود آسمان اور گرماگرم چائے۔ اِن لمحات نے شجا کو ذرا راحت بخشی تھی۔ شجا کا جواب سن کر رجاء نے آگے کی بات خود ہی سمجھتے سر ہلایا اور چائے کا گھونٹ لیا۔ یقیناً حریم نے ہی شجا کو اسکی یہاں موجودگی کا بتایا تھا۔ رجاء نے اشاروں کی زبان میں شجا سے پوچھا کہ حریم نے رجاء اور  اسکی فیملی سے متعلق اور کچھ بتایا؟
“مجھے سمجھ نہیں آیا۔۔ آپ نے کیا کہا؟” شجا نے ناسمجھ بنتے کہا تو رجاء نے مسکرا کر آنکھیں سُکیڑ کر دیکھا۔ شجا اپنے چائے کے کپ سے ہونٹوں کو لگا کر مسکراہٹ چھپاتے آگے بڑھ گیا۔ چند قدم ہی چلا تھا کہ اسکے چہرے کے سامنے موبائل کی اسکرین آگئی۔ شجا چونک کر رک گئے تو موبائل کے ساتھ رجاء اسکے سامنے آگئی اور آنکھوں سے اپنے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔ شجا نے موبائل اسکرین کو دیکھا اس میں میسج ٹائپ کیا گیا تھا۔
شجا نے ایک نظر رجاء کو دیکھا اور پھر اسکا موبائل اپنے ہاتھ میں لے کر میسج پڑھنے لگا۔ رجاء نے اپنا سوال دھورایا تھا کہ حریم نے کیا بتایا؟ شجا نے ایک سانس بھری اور گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ “یہی کہ آپ ممّا سے ملی تھیں پھر اسکے بعد آپ کے ساتھ بھابی نے بدتمیزی کری تھی۔ مگر ممّا اور آپکے درمیان کیا بات ہوئی اسے نہیں معلوم۔”شجا کی بات سن کر رجاء نے اپنا موبائل لیتے اثبات میں سر ہلایا۔ “ویسے رجاء آپ نے ممّا سے کیا بات کری؟” شجا نے گردن کی پشت کو دوسرے ہاتھ سے سہلاتے سوال کیا۔ رجاء نے مسکرا کر موبائل میں ٹائپ کیا اور دوبارہ موبائل شجا کو دے دیا۔ جس میں لکھا تھا کہ وہ صبا (شجا کی والدہ) کو شجا کی طرف سے منانے کے لیے گئی تھی۔
“کیا ممّا مان گئیں؟” شجا کے سوال پر رجاء نے کندھے ڈھلکائے سمندر کی جانب دیکھا اور پھر شجا کی امید سے بھری نظروں کو دیکھا۔ پھر اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔”معلوم نہیں مگر۔۔۔ کوئی ماں اپنے بچے سے زندگی بھر ناراض نہیں رہ سکتی۔” رجاء کے اشاروں میں کہی گئی بات سمجھ کر اداس مسکراہٹ شجا کے لبوں پر پھیلی۔ “ماں اپنے بچے سے ناراض نہیں رہ سکتی۔” شجا نے پچھتاوئے کا کڑوا گھونٹ نگلا۔ “مگر ماں اپنے بچے کے قاتل کو بھی معاف نہیں کر سکتی۔” شجا نے نم آنکھوں سے سمندر کی جانب دیکھا۔ “اور شاید زندگی بھر معاف نہ کرے۔” وہ افسوس سے کہہ گیا پھر آگے بڑھ کر ڈسٹبن میں گلاس ڈالتے سمندر کی جانب چل دیا۔ رجاء نے بھی اسکی پیروی کرتے گلاس ڈسٹبن میں ڈالا اور اسکے پیچھے چل دی۔ رجاء اسکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔
“آپ نے کیا بات کری ممّا سے؟” شجا نے رک کر رجاء کو دیکھا۔ رجاء مسکرا کر اشاروں کی زبان میں گویا ہوئی۔  “میں نے ان سے کہا کہ وہ اُس حادثے میں خود کو اپنے بیٹے کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔ اگر اُس رات وہ خود زنیزہ کے ساتھ حادثے کا شکار ہوتی اور قاسم انکل (شجا کے والد)  انھیں زنیزہ کی موت کا ذمہ دار ٹھراتے تو وہ کیسا محسوس کرتیں؟”
“آپکو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔” رجاء کی بات سمجھ کر شجا نے افسوس سے ذرا سر ہلا کر کہا۔ رجاء نے بھویں جوڑے اسے دیکھا اور پھر دوبارہ مخاطب ہوئی۔  “کبھی انسان کو صورت حال سمجھنے کے لیے دوسرے انسان کے پہلو سے بھی سوچنا چاہیے تاکہ وہ صورت حال کا مثبت حل تلاش کر سکے۔ اور مجھے لگا کہ آپکی طرف کی کہانی سمجھنے کے لیے انھیں خود کو آپکے قردار کی جگہ رکھنا ہوگا۔ کیونکہ ابھی تک وہ زنیزہ کی ماں بن کر سوچ رہی تھیں لیکن اب انھیں شجا بن کر سوچنا ہوگا۔”اسکے اشاروں کی زبان کو بہت دیھان سے سمجھ رہا تھا۔ بات کا اختتام کر کے وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“یقین کریں۔۔۔ ہمارے والدین ہماری شادی میں شریک ہوگیں۔” اس نے مسکرا کر اشاروں کی زبان میں کہا اور لہروں کو دیکھا۔ شجا نے مسکرا کر بے ترتیب بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر جُھک کر پئروں کو جوتوں اور موزوں سے آزاد کیا اور پینٹ کے پائنچوں کو زرا اوپر کرتے پنڈلی تک موڑ لیا۔ پھر سیدھا کھڑے ہو کر رجاء کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر مسکرایا۔ “چلیں لہروں کو چھو کر آتے ہیں۔” شجا نے مسکرا کر کہا رجاء نے نفی میں سر ہلایا۔ “ارے صرف پئر بھگوئے گیں۔ چلیں۔۔” شجا نے ہاتھ کے اشارے سے رجاء کو آگے چلنے کا کہا۔ اسکے اسرار کرتی گہری نظروں کو وہ کیسے انکار کرتی اس لیے مسکرا کر اس کے ساتھ چل دی۔ دونوں نے لہروں کی زرا پہنچ سے دور اپنے جوتے اور سینڈلز رکھ دیے۔ ننگے پئر وہ گیلی ٹھنڈی ریت پر قدم کی چھاپ چھوڑ کر اپنی طرف آتی لہروں کی جانب چل دیے۔ ایک لہر تیزی سے پئروں کو ٹخنوں تک بگھوتی گزری تو دونوں کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔  پھر لہر واپس لوٹتے انکے قدموں کے نیچے سے ریت بھی سِرکاتی لے گئی۔ یہ احساس عجیب اور دلچسپ تھا جو دونوں نے محسوس کیا تھا۔ پُر سکون ، راحت بھرا احساس۔

3
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
Sheza
Guest
Sheza

boht alaaaaa

Akasious
Guest
Akasious

Best as always❤❤❤❤

jiyakhan
Guest
jiyakhan

amazing