وہ گہری آنکھوں سے سامنے بڑے سفید رنگ میں رنگے  گھر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے سر جھکا کر سانس لیتے ماتھے پر ایک ہاتھ کی انگلیاں پھیری۔ پھر گھر کو اپنی گہری نظروں کے احاطے میں رکھے اسکی جانب قدم بڑھائے۔ مرکزی گیٹ پر پہنچ کر اس نے گارڈ کے گیٹ کھولنے کا انتظار کیا۔ مگر گارڈ کی مشکوک نگاہوں کو دیکھتے اسے اپنے تعارف کا خیال آیا۔

 

“میں شجا ہوں۔ شجا حیدر۔۔۔ اس گھر کے مالک کا چھوٹا بیٹا۔” دھیمی پُر اثر آواز میں اس نے مختصر سا تعارف کرایا۔ وہیں گارڈ کے دماغ نے بھی اسے یاد دلایا کہ اس نے یہاں کے کسی ملازم سے سنا تھا کہ قاسم حیدر کا ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے جو انکے ساتھ نہیں رہتا۔ گارڈ نے احتراماً سلام کرتے گیٹ کھول دیا۔

 

“صاحب گاڑی اندر لے آوں؟” گارڈ نے شجا کی گاڑی کی جانب دیکھ کر سوال کیا شجا نے مڑ کر روڈ کے پار کھڑی گاڑی کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کر گارڈ کو دیکھا۔

 

“نہیں اسے وہیں رہنے دو۔ “شجا یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ اسے خود نہیں معلوم تھا کہ چار سالوں بعد اسکی فیملی سے ملاقات کا دورانیہ کتنی دیر کا تھا۔

 

باغ کے درمیان بنی روش پر چلتے اسکی نگاہ گھر کے باغ میں کھڑے ایک شخص پر ٹہر گئی۔ اس شخص کی کمر شجا کی طرف تھی اس لیے وہ شجا کو نہیں دیکھ سکا۔ وہ شخص دِکھنے میں شجا کی طرح ہی تھا۔ جسامت میں سِلم اور گھنے کالے بالوں والا شجا کا دوسرے نمبر کا بھائی۔ اس نے گود میں ایک سال کی بچی کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں موبائل پکڑے کسی سے باتوں مصروف تھا۔ شجا نے ہلکے قدم پیچھے لیے اور مڑ کر گھر کی جانب چل دیا۔

 

“شجا؟” مگر پیچھے سے دی گئی آواز پر شجا کے قدم تھم گئے۔ شجا نے مڑ کر دیکھا۔وہ جو تھوڑی دیر پہلے فون پر مصروف تھا اب مسکراہٹ سجائے شجا کی جانب آرہا تھا۔ شجا کے قریب پہنچتے ہی اس نے شجا کو گلے لگایا اور ایک ہاتھ سے شجا کی کمر تھپکائی۔ دونوں کے درمیان رسماً سلام دعا ہوئی۔

 

“تمھاری بیٹی ہے ؟” شجا نے اسکی گود میں ایک سال کی بچی کی جانب اشارہ کیا اور اسکے گال کو چھوا۔ “ہاں۔۔”اس نے مسکرا کر جواب دیا۔

 

 

“تم لوٹ آئے ہو؟”اس سے پہلے کے شجا اس کے سوال کا کوئی جواب دیتا۔ اسکا فون بجنے لگا۔

 

“تم بات کر لو میں اندر ہی ہوں۔”شجا نے مسکرا کر کہا اور اسے وہیں چھوڑ کر گھر میں داخل ہوگیا۔ چھوٹے بچے ایک، دوسرے کے پیچھے بھاگتے شجا کے پاس سے گزرے۔ شجا نے انکی طرف نہیں دیکھا اسکی گہری نظریں تو اس گھر کے درو دیوار کو دیکھ رہیں تھی سب ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ گیا تھا۔ اور کچھ ۔۔۔۔

 

“نامکمل۔۔” اس نے اپنے دل کی آواز پر حیرانی سے دیوار پر لگی ایک تصویر کو دیکھا ۔ گھر کے سب فرد تھے اس تصویر میں اس کے والدین ، اسکے دو بھائی اور بھابیاں انکے بچے اسکی بہن اور بہنوئی وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ۔ مگر اس تصویر میں کچھ کمی تھی۔ وہاں اسکے والدین کے قریب رکھی دو کرسیاں خالی تھیں۔ یہ دیکھ کر شجا کے لبوں پر اداس مسکراہٹ پھیل گئی۔ یہ کرسیاں زنیزہ اور شجا کے لیے تھیں ۔

 

“تم لوٹ آئے۔۔۔”ایک اور آواز پر شجا نے مڑ کر دیکھا وہاں اسکی بڑی بھابی مسکراہٹ سجائے کھڑی تھیں۔ شجا نے انہیں سلام کیا اور وہ سلام کا جواب دے کر اسکی جانب بڑھیں۔ قریب پہنچ کر انہوں نے شجا کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا اور ساتھ ساتھ بلند آواز میں شجا کے آنے کا اعلان کر دیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب اپنے اپنے کام کج چھوڑ کر لیونگ روم میں آگئے۔ شجا کے سب سے بڑے بھائی ، قاسم صاحب بھی اپنی اسٹڈی سے باہر آ گئے۔ سب گھر کے لیونگ روم میں تھے۔

 

شجا کی گہری نظریں اپنے لیے اس رحمت کے آنچل کی تلاش میں بے چین تھیں۔ وہ صبا کو دیکھنا بھی چاہتا تھا مگر ڈرتا بھی تھا کہ کہیں اسے یہاں دیکھ کر صبا کو پھر سے تکلیف نا ہو۔

 

“ارم کہاں ہے؟”شجا نے اپنی دوسرے نمبر کی چھوٹی بھابی کے بارے میں سوال کیا۔ ماحول میں اچانک ہوا کا دباو کم ہوتے سب نے ہی محسوس کیا تھا۔ قاسم نے اپنے ساتھ بیٹھے شجا کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ارم نے رجاء کے ساتھ جو بدتمیزی کی تھی وہ اس سے واقف تھے۔

 

“بیٹا اس بات کو فِل وقت جانے دو۔” انھوں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ شجا سے کہا۔

 

“ڈیڈ بھابھی کو رجاء سے کچھ جواب چاہیے تھے۔۔ تو میں رجاء کی جگہ انھیں جواب دینے آیا ہوں۔”اس نے سنجیدگی سے کہا۔ اسی وقت ارم بھی لیونگ روم میں داخل ہوئی۔ شجا نے سلام کیا اور اس نے شجا کو جانچتی نظروں سے دیکھتے پھر سلام کا جواب دیا۔

 

“تم یہاں کیسے؟” ارم نے بھویں اٹھا کر سوال کیا۔ اسکے چہرے کے تیکھے نقش جتا رہے تھے کے شجا کا یہاں آنا اسے کچھ ناگوار گزرا تھا۔

 

“یہ تو آپ بہتر جانتی ہیں کہ۔۔ میں یہاں کیسے؟”شجا نے بنا تاثر کے جواب دیا۔ سب نے ان دونوں کے درمیان یہ الفاظوں کی سرد جنگ بھانپ لی تھی۔ارم نے شجا کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

 

“لیں میں حاضر ہوں۔ اب پوچھیں وہ سوال جو آپ نے رجاء سے پوچھے تھے۔ وہ بے زبان تھی اس لیے اپنے جواب آپکو سمجھا نہیں سکتی تھی۔ لیکن اسکی جگہ میں آپکے سوالات کے جواب دے سکتا ہوں اور بہترین طریقے سے سمجھا بھی سکتا ہوں۔”شجا نے بغور اسے دیکھتے طنز کیا۔ ارم کے تیکھے نقوش پر غصے کے تاثر ابھر آئے۔

 

“یہ کیسے بات کر رہے ہو اپنی بھابی سے۔” شجا نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا جو ابھی لیونگ روم میں داخل ہوا تھا اور چل کر ارم کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی ایک سال کی بیٹی کو ارم کے حوالے کیا۔

 

“شجا میں مانتا ہوں کہ ارم کو رجاء سے بدتمیزی سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن میرے بھائی تمھارا بات کرنے کا یہ طریقہ بھی درست نہیں ہے۔” اس نے شجا کو نرمی سے سمجھایا۔ شجا اداس مسکرایا۔

 

“کیا تم مجھے معاف کر سکتے ہو ؟ یہ جان کر۔۔کہ میں اپنے اس رویے پر شرمندہ ہوں ؟ کیا تم مجھے معاف کر دو گے؟”شجا نے اپنے بھائی سے سوال کیا۔

 

“تم مجھے معاف کردوگے۔ اگر میں واقعی اپنی غلطی پر شرمندہ ہوا۔۔ تو۔۔۔”اس نے لفظ تو پر زور دے کر ادا کیا اور پھر چند سیکنڈ رکا اور نظر دوبارہ ارم پر ڈالی۔ ” مگر میرے بھائی یہاں تو شرمندگی کے آثار ہی نہیں ہیں۔ اور نا ہی بھابی اپنے کیے پر معافی چاہتی ہیں۔ تم ہی بتاؤ میرا برتاو کیسا ہونا چاہیے ؟”شجا نے افسوس سے سر ہلا کر کہا۔

 

“میں کیوں مانگوں معافی؟” ارم نے غصے میں کہا۔

 

“کیونکہ آپ نے میری منگیتر کو بے عزت کیا تھا۔” شجا نے فوراً جواب دیا۔ قاسم نے اسکا شانہ پکڑ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

 

“اوہ تو اس کی بے عزتی کا بدلہ لینے آئے ہو؟”ارم نے طنزیہ سوال کیا۔

 

“آپکی زبان سے کبھی اچھے الفاظ بھی ادا ہوے ہیں؟” شجا نے سنجیدگی سے سوال کیا۔

 

“شجا۔۔۔۔” ارم کے شوہر نے معمولاً انداز میں اسکا نام پکار کر تنبیہ کی۔ شجا نے اسکو ایک نظر دیکھا۔

 

“آپ سب اسکی بدتمیزی دیکھ رہے ہیں؟”ارم کمرے میں موجود گھر کے باقی افراد سے مخاطب تھی۔

 

“بدتمیزی؟” شجا کے لہجے میں حیرانی واضح تھی۔

 

“میں نے آپکو گولڈ ڈیگر نہیں کہا۔ نا ہی میں نے آپکی کسی محرومی پر آپکا مذاق اڑایا ہے۔”شجا کے طنز پر ارم کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئی۔ اسے یاد تھا کہ اس نے رجاء کے  بےزبان ہونے پر کیا کہا تھا۔

 

“میں یہاں آپکے سوالات کے جواب دینے آیا ہوں۔ پوچھیں وہ سوال جو آپ نے رجاء سے پوچھے تھے۔” شجا نے بھویں جوڑے بارعب  آواز میں کہا اور اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

“شاید آپ سوال بھول گئی ہیں۔ چلیں میں بھی وہ سوال دہرا کر آپکو شرمندہ اور خود کو اذیت پہچانا نہیں چاہتا۔ لیکن ۔۔۔” وہ رکا اور پھر گویا ہوا۔ “ایک بات ضرور کہونگا۔ رجاء بےزبان ہے شاید اس لیے اسے اس زبان کی قدر ہے اور وہ الفاظ کا استعمال بھی دیہان سے کرنا جانتی ہے۔ سچ پوچھیں تو اگر زبان ہوتے ہوۓ اس نے بھی آپکی طرح اپنے الفاظ اور آواز سے لوگوں کی دل آزاری کرکے بددعائیں ہی کمانی تھیں ۔ تو میں اللّه کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری رجاء کو بے زبان رکھا۔ کم از کم وہ اپنی زبان سے لوگوں کے دلوں پر ضرب تو نہیں لگاتی۔” شجا نے تحمل سے ارم کی تیکھی آنکھوں میں دیکھتے بات کہہ دی اور پھر ہلکا سا مسکرایا۔

 

“نعمتوں کا استعمال دیہان سے کریں۔ معلوم نہیں اسکا غلط استعمال دیکھتے ہوۓ کہیں اللّه ہمیں اس نعمت سے محروم ناکر دے۔” شجا نے گہری نظروں سے ارم کی جانب اشارہ کرتے کہا پھر پیچھے مڑ کر صوفے پر بیٹھے قاسم صاحب کو دیکھا۔

 

“میں چلتا ہوں ڈیڈ۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ اللّه حافظ۔” اس نے جھک کر انکے کندھے پر پیار کیا اور گلے مل کر الودع کہتے اور کسی سے ملے بغیر وہاں سے چلا گیا۔

 

شجا تیزی سے گھر سے باہر نکلا تھا۔ وہ پلٹ کر بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر اسکے تیزی سے بڑھتے قدم اچانک رک گئے۔ اسی وقت سامنے روش سے چلتی ہوئی صبا نے اسکی جانب دیکھا۔ انکی مسکراہٹ بھی اب فنا ہو رہی تھی۔ شجا اپنی جگہ مجسمہ بن گیا تھا۔ شجا کو معلوم نہیں تھا کہ حریم صبا اور اپنے بچوں کو پاس کے باغ میں لے گئی تھی۔ وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید صبا ہمیشہ کی طرح اس سے ملنا نہیں چاہتی اس لیے لیونگ روم میں نہیں آئی تھی۔ چار سال بعد وہ اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔

 

“مام۔۔۔”اسکی لرزتی ہوئی آواز۔ “دور ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔۔ تم۔۔۔ تم میری بچی کے قاتل ہو۔۔۔ سنا تم نے۔۔ شجا تم قاتل ہو۔”یہ آخری جملہ تھا جو صبا نے اس سے کہا تھا۔انہوں نے تو اسے سیدھا مجرم کہہ دیا تھا۔

 

الزام یاد آتے ہی اسکا دل اور گہری آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئے۔ شجا نے پلکیں جھپکاتے آنکھوں کی تری کو دور کیا۔ پھر ناچاہتے ہوے بھی صبا کے چہرے سے نظریں پھیر کر باغ کی جانب دیکھا اور گہری سانس بھرتے اپنے آپ کو بکھرنے سے سنبھالا۔ نا جانے اب کیا ہونا تھا؟ کیا صبا اسے کبھی معاف نہیں کریں گی ؟ کیا وہ انکی نظر میں اب بھی قاتل ہے؟ یہ سوال اسکے دل کو بوجھ تلے دبا رہے تھے.

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
Fariha
Guest
Fariha

Buht zabardast likha hai hamesha ki tarah