زندگی خوشگوار گزر رہی تھی وقت کی رفتار تیز ھوگئ تھی۔ اُس حسین سمندر کی صبح کو گزرے چار برس بیت گئےتھے۔کئ لوگوں کی نظریں بدلیں اور دنیا کی نظارے بھی بدلے نہیں بدلا تو اسکا پچھتاوا اور اسکی دل کی ویرانیاں نہیں بدلی ۔

وہ آج بھی سردیوں کی کسی اداس شام کی ترہاں معاضی کی یادوں میں بھٹکا بنجارا تھا جو کسی ایسی سکون بھری منزل کی تلاش میں تھا جہاں اسکے ویران دل کو نور کی راحت مُیسر ہو۔ بارگاہِ الٰہی  میں اسے سکون ملتا تھا اور عبادتوں میں راتیں گزار کر اسے کچھ پل کا چین  مل جاتا تھا ۔مگر دن کا سویرہ کسی آگ کے روشن شولو کی طرح اسکی نیند اور دل کے چین کو آگ لگا دیتا تھا۔دنیا کے مسائل اسکے لیے کوئ معنےنہیں رکھتے تھے۔ وہ زندگی بھی اس لیے جی رہا تھا کے یہ مالک کی طرف سے عطا کردہ تحفہ تھا اور اس پر صرف اسی کا حق ہے ورنہ وہ اب تک وہ اپنی زندگی بھی ختم کر دیتا۔

چار سال میں اسکے رشتوں نے اس سے دامن چھڑا لیا سوائے اسکی بڑی بہن اور بہنوئ کے۔ حریم اپنے چھوٹے بھائ کے لیے ہمیشہ فکرمند رہتی۔مگر اس فکر کا کیا فائدہ شجا کی قسمت میں جو لکھ دیا گیا تھا۔اب ہونا وہی تھا بس صحیح وقت کا انتظار تھا۔

وہ گھیرےنیلے رنگ کا بِرانّڈڈ سوٹ پہنے اپنی کار سے باہر نکلا تھا۔ایک ہاتھ میں فائل اور دوسرے ہاتھ سے موبائل کو کان پر لگائے وہ کال پر مصروف تھا۔ اپنی باتوں میں مصروف وہ مطلوبہ عمارت کی طرف بڑھ گیا مگر چند قدم چلتے ہی وہ کسی اجنبی سے ٹکرایا۔ٹکر زوردار نہیں تھی وہ معازرت کہے کر آگے بڑھ گیا۔

شجا عمارت میں داخل ہوا اور اُس شاندار ہوٹل کی استقبالیا میز پر وہ جا کر کھڑا ہوگیا۔اس ہوٹل کے داخلی دروازے پر ہوتی نقل و حرکت نے اسکا دھیان اپنی طرف کھیچا۔ اُس نے ایک نذر اس طرف دیکھا جہاں کوئی انجان لڑکی ہوٹل کے گارڈ کو کچھ دِکھا رہی تھی مگر شجا کو دیکھتے ہی اُس نے ہاتھ کے اشارے سے شجا کو کوی کاغذ دیکھایا مگر شجا نے اسے اٙندیکھا کردیا اور کال پر بات کرنے لگا۔پھر دروازے کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا ہوگیا کیونکہ داخلی دروازے پر ہوتی نقل وحرکت اسکا دھیان بھٹکا رہی تھی۔  اگلے ہی لمحے ہوٹل کی لوبی میں گارڈ کی آواز گنوجی۔

شُجا نے مُڑ کر دیکھا جو لڑکی کچھ دیر پہلے گارڈ سے بات کر رہی تھی۔ اب وہ شجا کی طرف دوڑ کر آرہی تھی۔ اسکے پیچھے گارڈ اور ہوٹل کی دو اسٹاف کے لڑ کے تھے ۔وہ لڑکی شجا کے سامنے آکر رکی ہی تھی کہ گارڈ نے اسکا بازو پکڑنا چاہا وہ انجان لڑکی شجا کے پیچھے چھپ گئی۔

“میڈم دیکھیں آپ آرام سے ھمارے ساتھ باہر چلیں ورنہ ہم سختی سے پیش آئیںگے۔ “گارڈ کی آواز پر وہ لڑکی شجا کے ساتھ کھڑی ہو گئ اور گارڈ کو اپنا ایک  ہاتھ دکھا کر خاموش رہنے کا کہا۔

پھر ہاتھ میں پکڑا کوئی سرکاری کاغذ شجا کے ہاتھ میں تھمایا۔ شجا نے کاغذ پر لکھی عبارت پڑھی تھی ۔جسے پڑ ھتے ہی اسے علم  ہوا کے یہ اسکی فائل سے جڑا ایک اہم کاغذ تھا۔

“یہ تو میری فائل کا کاغذ ہے آپکے پاس کیسے آیا ؟”شجا کو اس لڑکی سے سوال کرتا دیکھ گارڈ اور وہ لڑکے وہاں سے چلے گئے۔

“بہت بہت شکریہ”شجا نے کاغذ سے نظر اٹھا کر اپنے مددگار کو دیکھا۔

وہ ہرے دوپٹے میں سانولی رنگت والی شہد جیسی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔شجا نے بھویں جوڑ کر اسکے چھرے کے کھڑے نقوش کو دیکھا۔

“آپکا نام کیا ہے؟ ” شجا کے سوال پر اس معصوم لڑکی کے آنکھوں کا دائرہ پھیل گیا اور وہ وہاں سے مڑ کر دوسری سمت چل دی۔

“ارے میڈم ! آپ غلط سمجھ رہی ہیں” شجا نے اسے پکارہ مگر وہ دور جا چکی تھی۔

“کیا میں شکل سے اتنا ڈرونا لگتا ہوں، جو یہ اس قدر ڈر گئ؟” شجا نے اپنی ہلکی دہاڑی پر ہاتھ پھیرتےہوے سوچا اور اُس رستے کو دیکھا جہا ں کچھ وقت پہلے وہ لڑکی موجود تھی۔

شجا نے اس کاغذ کو فائل میں لگایا اور اپنی منزل کی جانب چل دیا مگر وہ معصوم نگاہیں اسکے ذہن میں ایک چھاپ چھوڑ  گئ تھیں۔

•••••••

“یار کہاں رہ گئ تھیں؟ پتا ہے امّی کتنا پریشان ہیں۔ “سوہا نے داخلی دروازے سے داخل ہوتی اپنی ایکلوتی نند کو دیکھتے ہوے سوال کیا۔

رجاء نے اشاروں کی زبان میں اسے بتایا کہ جب رجاء اپنی سہیلی کی سالگرہ کی تقریب سے  واپس گھر آنے کے لئے ریسٹورینٹ سے باہر نکلی تو وہ ایک اجنبی شخص سے ٹکرا گئ تھی۔ وہ شخص معزرت کر کے آگے  بڑھ گیا مگر رجاء کو اسکی فائل سےگرا ایک کاغذ نظر آگیا۔رجاء نے کاغذ اٹھایا تو وہ سرکاری کاغذ تھا ۔رجاء اس شخص کے پیچھے چل دی کیونکہ وہ اسے بلا تو نہیں سکتی تھی۔ وہ شخص ایک شاندار ہوٹل میں داخل ہوگیا رجاء بھی اسکے پیچھے چل دی مگر گارڈ نے اسے اندر داخل نہیں ہونے دیا ۔رجاء نے اسے سمجھانا چاہا مگر افسوس کے وہ سمجھ نا سکا۔اس اجنبی شخص نے ایک نذر رجاء کو دیکھا تھا جس پر رجاء نے اسے وہ کاغذ بھی دکھایا مگر اس نے اندیکھا کر دیا۔

رجاء سوچ میں پڑ گئی کے اب یہ کاغذ اسکو کیسے دے ؟ رجاء دروازے سے فاصلے پر کھڑی ہوگئی ۔گارڈ بھی اپنی جگہ پر جا کر دوبارہ کھڑا ہوگیا ۔ اتنے میں ایک شاندار کار عمارت کے سامنے رکی اور وہ گارڈ اس کار کا دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھا اور موقعے کا فائدہ اٹھا کر رِجّاء دروازے سے اندر داخل ہوگئی مگر عین موقعے پر گارڈ نے اسے دیکھ لیا اور اسکے پیچھے دوڑ پڑا ۔ رجاء بھاگ کر اس نیلے  برانڈڈ سوٹ پہنےشخص کے سامنے جا کر رکی ہی تھی کہ گارڈ نے اسکا بازو پکڑنا چاہا وہ شجا کے پیچھے چھپ گئی۔

“میڈم دیکھیں آپ آرام سے ھمارے ساتھ باہر چلیں ورنہ ہم سختی سے پیش آئیںگے۔ “گارڈ کی آواز پر رجاء شجا کے ساتھ کھڑی ہو گئ اور گارڈ کو ہاتھ دکھا کر خاموش رہنے کا کہا

پھر ہاتھ میں پکڑا کوئی سرکاری کاغذ لڑکے کے ہاتھ میں تھمایا۔  وہ لڑکا بہ

بھووّں کو جوڑے کاغذ کو دیکھ رہا تھا ۔

“یہ تو میری فائل کا کاغذ ہے آپکے پاس کیسے آیا ؟”لڑکے  نے گھیری آواز میں سوال کیا وہ ابھی بھی کاغز کو دیکھ رہا تھا۔

گارڈ اور  دونوں لڑکوں کے وہاں سے چلے جانے پر رجاء کو لگا کےشاید یہ سامنے کھڑا گھیری آنکھوں والا لڑکا یقیناً کوئی اثرورسوخ رکھتا ہے جسکی وجہ سے گارڈ اور لڑکے خاموشی سے واپس چلے گئے۔

“بہت بہت شکریہ”لڑکے  نے کاغذ سے نذر اٹھا کر رجاء کو دیکھا۔اسکی کالی گھیری آنکھیں عجیب گہرائ سمیٹے رجاء کو دیکھ رہیں تھیں۔

“آپکا نام کیا ہے؟” اسکے سوال پر اس کی آنکھوں کا دائرہ پھیل گیا اور وہ وہاں سے مڑ کر دوسری سمت چل دی۔

وہ اسے کیا جواب دیتی نا جانے وہ اسکی بنا آواز کے الفاظوں کو سمجھتا بھی یا نہیں ۔رجاء نے پھر مُڑ کر اسے نہیں دیکھا۔

“کیا مطلب تم نے اسے جواب نہیں دیا اور وہاں سے بھاگ  لیں ؟”سوہا نے حیرانی سے رجاء کے چہرے کو دیکھا۔

رجاء نے اشاروں سے اسے جواب دیا کہ وہ گہری آنکھوں والا کیسے رجاء کی زبان سمجھتا؟ جب وہاں کوئ اسے سمجھ نہ سکا۔ رجاء کی بات پر سوہا نے اثبات میں سر ہلایا۔

سوہا اور ابراھیم کی شادی کو ایک سال ہونے والا تھا۔رجاء کی چھوٹی بیکری اب تھوڑی بڑی ہوگئ تھی۔وہ اپنے بھائ، بھابی اور والدین کے ساتھ ہسی خوشی زندگی گزار رہی تھی۔

رجاء کے لیے اِس دوران دو رشتے آئے تھے مگر وہ دونوں ہی قدردان نہیں تھے۔ اس بار رشتہ پر اعتراض رجاء کو تھا ۔ پہلے لوگ رجاء کی بے زبانی کی وجہ سے رشتہ جوڑنا نہیں چاھتے تھے  اب رجاء لوگوں کی لالچ دیکھ کر رشتہ جوڑنا نہیں چاہتی تھی۔

والدین جہیز میں  اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو اسکی آنے والی زندگی کے مطابق ضروریاتِ زندگی کی چیزیں دیتے ہیں مگر یہ دنیا والے اسے اپنا حق سمجھ کر اپنی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ جہیز کے نام پر لمبی چوڑی لسٹ لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے بوڑھے باپ کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔ اور حیرت کا مقام تو یہ ہے کے بائیک یاجائیدات کی مانگ لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے  بڑی ڈھٹّائ سے عیّن بارات کے دن رکھی جاتی ہے ۔باقائدہ لڑکی کے گھر والوں کو دھمکاتے ہیں کے اگر لڑکے والوں کی بات نامانی گئی تو بارات لوٹ جائے گی ۔ ایسے لوگوں کے ضمیر ملامّت نہیں کرتے یا پھر ایسے لوگ ضمیر رکھتے بھی ہیں ؟

OTHER CHAPTERS

CHAPTER 1 CHAPTER 3

2
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
jiya khan
Guest

ye shuja rija ka hero hy?

AKasious
Guest
AKasious

زبردست لاریب۔
آخری لائینر بہت کمال کی تھیں۔
۔suspense شروع سے لے کر آخر تک اتنا
کہ میں اک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی۔
Keep it up.❤