یہ ہر طرف پھیلتا سویرا جو بے نور تھا جو اجالوں کے ہوتے سیاہی سے بھرپور تھا جو قدرت کی کاریگری سے لاشعور تھا یہ سویرا پودوں کیلۓ اذیت کا الہام لایا تھا یہ ننھی کلیوں کیلیے موت کا انعام لایا تھا یہ ہر حسن کا اب اختتام لایا تھا یہ لہلہاتے سبزے کا اب انجام لایا تھا یہ بہار کیلیے موت کا ایک جام لایا تھا ہاں یہ سویرا خزاں کی آمد کا پیغام لایا تھا اب ہر ٹہنی پہ لگا پتا سولی پہ لٹکا تھا زندگی اور موت کے عجب کھیل میں اٹکا تھا فضا میں ہر طرف اذیت کی گونجیں تھیں اور درد تمام پودوں میں یکساں بٹا تھا کہیں نہ کہیں یہ درد میری زندگی کا حصہ تھا کہیں نہ کہیں یہ درد ہر زندگی کا قرینہ تھا خوشیاں چاہے کتنی ہی خوشگوار کیوں نہ ہوں خزاں کی آمد نہ کبھی کوٸی ڈرامہ تھا یہ بے ثبات عالم ہے، یہ فانی جہاں ہے یہ ازل سے ہی ختم ہونے کو بنا تھا یہاں عروج سے زوال کا سفر ایک راز ہے یہاں بہار سے خزاں کا سفر ایک تار ہے یہاں ہر شے فانی و بے ثبات ہے اور یہاں ہر خوشی پر غمی کی بوچھاڑ ہے Picture credits: Abeer Hashmi

2
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
hajira shah
Guest
hajira shah

MashaAllah