ک پریم کتھا جو
سنائی گئ تھی
وہ میرے دل میں
 سما گئ ہے
جو ہولے ہولے سلا رہی ہے
میری اداسی بڑھا رہی ہے
جو وحشتوں کو نبھا رہی ہے
اک خواب مجھ کو دکھا رہی ہے
مگر مجھ کو منا رہی ہے
خواب نگر کی
چاہ نہ کرنا
کبھی بھی غم پہ
کوئی آہ نہ کرنا
چراغ حسرت جلائے رکھنا
جو روح پہ طاری سحر ہو اس کا
تو اپنی سانسیں دبائے رکھنا
بس واجبی سا کلام رکھنا
اور اپنا اظہار چھپائے رکھنا
مگر وہ کتھا جو سن چکی ہوں
وہ قصہ من میں مہک چکا
کوئی پھول مجھ میں کھل چکا ہے
نظر سے اوجھل جو راستے تھے
جمال یار سے وہ نکھر چکے ہیں
تخیل کو اپنے
دوڑا چکی ہوں
میں حب عشق اب پا چکی ہوں
اب ہونٹ کی لرزش گیت ہے میرے
اور آنسو سر اور تال ہیں میرے
اب چنری رنگلی اوڑھ لی ہے
اور سونی کلائی مروڑ دی ہے
کہ رقص تھیا کو پاس دیکھا
تو عہد تجدید یاد آیا
جو پچھلے ہجر سے تاک میں تھا
وہ مجھ سے مجھ تک پھر آ ملا ہے
وہ سونی راتیں
وہ سوندھی خوشیاں
سب امرت جام اب چکھ چکی ہیں
دوام ہستی پا چکی ہیں
وہ پریم کتھا
اور احساس جاناں
مجھے تپتے صحرا پہ چلا رہی ہیں
مجھے دھیرے دھیرے جلا رہی ہیں
کہاں سے چل دی
کہاں پہ ٹھہری
پریم سے پریم کو جا چکی میں
حیات اقدس کو پا چکی میں
فنا کی راہیں
بقا کی منزل
وہ مجھ میں ہے اک واہ مکمل۔
Picture by; Syeda Iqra Azim

1
Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of
Fariha
Guest
Fariha

Loved it