ہم کو تو ہر بزم میں، ہر حال میں سچ کہنا ہے
شہر کا شہر خفا ہوتا ہے، اچھا، ہوجائے

قتیل شیفائ

شیفائ صاحب کا یہ شعر ہوبہو حبیب جالب کی عکاسی کرتا ہے. جالب وہ صاحب تخیل تھے جوفرعون و نمرود کی پروا کئے بغیر کاغذ کے پنوں پر
سیاہی پھینکتے چلے گئے.1983 میں حبیب جالب کی ایک کتاب شایع ہوئی جس کا عنوان تھا ‘ حرف حق ‘. یہ کتاب اسی سال منظر عام پر آئی جب سندھ
میں ضیا الحق کے خلاف باقاعدہ تحریک شروع ہوئی اور سینکڑوں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا. کتاب کی پہلی نظم ہی ‘ دستور’ ہے. جو مشہور
زمانہ ثابت ہوئی.

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبح بےنور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا.

غالبا جالب کو اس ہی نظم نے سب سے زیادہ شہرت دلائ. نہ صرف اشعار بلکہ جالب کا انداز بیاں بھی انہیں اونچائوں پر لے گیا. بعض نقاد نے تو یہ تک کہا کہ جالب کی شہرت کی وجہ محض انکی آواز تھی. حالا نکہ اس کتاب کی دوسری نظم ‘ جمہوریت ‘ اس بات کی دہائی دیتی ہے کہ جالب کا کلام محض کانوں تک نہیں پہنچتا تھا بلکہ عوام کی روح تک رسائی حاصل کرتا تھا. جالب کی شاعری براہراست عوام کی روح سے مخاطب ہوتی تھی.’ حرف حق ‘ کا ہر ایک حرف قاری کی روح کو گریباں سے تھام کر جھنجوڑتا ہے. نہ صرف یہ بلکہ جالب نے جب جب ذاتی دکھ یاد کیا تب تب قوم کے دکھ کو بھی ذکر کیا.خاص کر ‘ میری بچی ‘ نظم میں.حرف حق ایک ایسی کتاب کے جو قاری کو مختلف قسم کے جذبات سے گزار کر سوچنے پر مجبور کردے گی. ممکن ہے بعض جگہیں آپ کو کڑوی کسیلی لگیں مگر کسی لفظ کو جھٹلا نہیں سکتے. حرف حق حقیقتا حقائق سے لبریز ہے.

‘ ہم نے ان پر کیا حرف حق سنگ زن

جن کی ہیبت سے دنیا لرزتی ہے ‘

فیض احمد فیض

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of