.میں جانتی تھی میری تشنگی کہاں جا کر رام  ہو گی، کہاں میری بے قراریوں کو راحت ملنے والی تھی
میرے ان کہے سوالوں کے جوابات اور ان کہی داستانوں کی داستان کہاں سننے کو ملے گی۔ ایک بار پھر میں اپنے بکھرے، چیختے چلاتےغموں کی پوٹلی اٹھائے اماں کے آستانے پرحاضر تھی۔ بلا تمہید اور بنا دیکھے اماں نے اپنا سب کام چھوڑا اور میری طرف متوجہ ہو گئ بغیرپلکے جھپکائے اور بغیر لب ہلائےکیونکہ مجھے اپنی پلکیں جھپکنی تھیں۔ کیونکہ مجھے اپنے آنسووں کو بوسا دیناتھا۔کیونکہ میرے لب ہلنے تھے۔اور شور مچاتے لفظوں سے راستہ ہموار کرنا تھا۔
اماں! ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کسی کی خوشی سے روشنیاں پھوٹنے  لگتی ہیں۔۔ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی ہنسی سے فوارے چھوٹنےلگیں؟ جبکہ ان لبوں پر اداسی کے گیت رواں دیکھے ہیں اور ان روشنیاں پھوٹتی آنکھوں سے ہمیشہ دم توڑتے، ادھ جلے دیپ دہکتے دیکھےہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دل کسی کھلونے کو دیکھ کر مچل اٹھے اور پھر ایک لمحہ کی دیر کو زار زار رونے لگے۔۔ جذبات  کا یہ اتار چڑھاٶ کیوں ہوتا ہے؟ بتاو نا اماں! ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کسی کی گود چاہئے ہوتی ہےجب من اندر برسات جاری ہو تو کیوں کسی کا کندھا درکار ہوتا ہے۔۔ کیوں آنکھوں سے بہتی آنسووں کی جھڑیوں کوکسی کا لمس چاہئے ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ سسکتے تڑپتے لمحوں میں بچپن واپس مانگ لیا جاتا ہے۔ ایک ایس خواہش پروان چڑھتی  ہے جو خوفزدہ کرنے کو کافی ہے۔۔ ایسی خواہش کیوں پلتی ہے جس کے پورے ہونے کی امید تک نہ ہو۔۔ کیوں ایسی خواہشات جان کا روگ بن جاتی ہیں جن کو جئے بغیر جیا نہیں جاتا؟؟ جہاں تکمیل ممکن نہ ہو اس کو جیا جانا کتنا دردناک ہوتا ہے کیا آپ جانتی ہیں اماں؟

میں نے بہت بار ایسی خواہشوں کو جیا ہے اپنے آنسووں سے سینچا ہے انہیں۔۔ اپنے لمحوں کو لٹایا ہے ان پر۔۔ آتی جاتی سانسوں پر جھولا جھولایا ہے۔۔ کس اذیت کو جھیلا ہے میں نے۔ کیوں دفن شدہ خواہشات اپنی تجدید چاہتی ہیں؟ اماں کیا آپ جانتی ہیں کہ اک زمانے میں مجھے یہ سب درکار تھا میرے سہارے میرے ساتھ تھے۔۔ میری تمام بے قراریوں کا حل موجود تھا۔۔ میرے لرزتے کانپتے وجود کو سنبھالنے کو موجود تھا کوئی۔ مگر اب میں اس سے صدیوں کی مسافت پر ہوں میں اس کو پانہیں سکتی۔۔ آج مجھے پھر اس کی ضرورت ہے مگروہ میری پہنچ سے باہر ہے۔ میں کیا کروں اماں! میرا دل پھر ایک بار مچل رہا ہے کوئی دفن شدہ خواہش پھر سے سر نکال رہی ہے۔ میری بے قراریاں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ میں یونہی تڑپ کر اپنی جان کا پروانہ مٹی کی نذر کر دوں ملیا میٹ ہو جاوں۔ میری آنکھوں میں دور کہیں جھانکتے ہوئےاماں بولی! ایسا تب ہوتا ہے جب بچپن پوری طرح نکھرتا نہیں۔۔ نازک کلی کی مانند کھلتا نہیں۔۔ پھول بننے سے پہلے ہی اس کو زبردستی کھینچ تان کر بے ڈھنگا پھول بنا دیا جائے تو یوں ہی ہوتا ہے۔
ایسا تب ہی ہوتا ہے کہ کسی اندھیرے کمرے کا سہارا لیا جائے۔ جب سننے والے اپنے کان بند کر لیں تو وہی اندھیرا اپنی سماعتیں ہمارے لئے آزاد کر دیتا ہے۔۔ اسی کمرے کا بکھرا سامان ہمارے وجود کو سنبھالا دیتے ہیں۔۔ اسی اندھے کمرے کی دیواریں کتاب کے خالی صفحوں کی مانند کھل جاتی ہیں۔۔ تم وہیں ہو اور اس بچپن کو جی رہی ہو کہیں اندھیرے میں بھٹکی ہوئی ہو مگر وہ اندھیرا تمہارا اپنا نہیں۔۔ کسی آرزو نے تمہیں پھر وہیں لا پٹخا ہے۔ کیونکہ بچپن پورا نہ ہو تو کہیں نہ کہیں چھلکتا ہے اور ایسا ہمیشہ ہوتا رہے گا۔۔ جب جب گہری ٹھوکر لگے گی وہ بچپن چھلکے گا۔۔ اندھے کمرے کی یاد تڑپائے گی۔ ہاں اماں وہ میرا اندھا کمرہ! وہ اندھا کمرہ ہی میرا سہارا تھا۔ وہ کمرہ جہاں مہرا بچپن آج بھی کھکھلا رہا ہے۔ وہ کمرہ جہاں میرے ان کہے سوال ستاروں کی مانند ٹمٹما رہے ہیں۔ وہ کمرہ جہاں میرے آنے والے کل کی داستانیں پہلے ہی سے رقم ہیں۔ مجھے ان داستانوں  کو جاننا ہے، سننا ہے۔ شاید مجھے میری ابھرتی خواہش  کو رام کرنے کا کوئ درس مل سکے۔ کہیں کوئ ورق ایسا ہو گا جہاں دلاسے رقم ہوں گے۔ کہیں کوئی جملہایسا ہو گا جو سماعتوں میں رس گھول سکے۔کہیں کوئ عبارت ایسی ہو گی جس کو ادا کر کے لب جھوم جائیں۔ شاید کوئی ایک لفظ ایسا ہو جس کو سوچ کر، جس کو پوج کر زندگی گزرجائے۔ مگر اماں اس میں اذیت ہے دردناک موت کی سیکیفیت  ہے۔
مجھے پھر سے اس بچپن کو جینا ہے۔ اس اندھے کمرے میں رہ کر سب کو سوچنا ہے سب دیکھنا ہے۔ میں ٹوٹ چکی ہوں ایک بار پھر سے مجھ دلاسے دلا دو مجھے تھپکیاں دلا دو کہیں سےمیسر ہو تو ویسا لمس لا دو نا اماں۔ اماں! میرے سوال اب مجھے پریشان کرتے ہیں میرے جواب اسی کمرے میں مدفن ہیں مجھے پھر سے وہ کمرہ دلا دو کہیں سے۔ وہ فرش جہاں میں نے اپنے آنسووں سے دکھوں کی آبیاری کی تھی وہ دکھ پروان چڑھ چکے ہیں ایک تناور درخت کی مانند۔ اس کی شاخیں مجھ سے لپٹ گئ ہیں مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہیں ہیں میرا خون چوس رہی ہیں۔ اماں وہ میرے آنسووں سے پروان چڑھا  تھا اس کو میرے آنسووں کی ضرورت ہے ورنہ وہ مجھے کھا جائے گا۔ کیا یہ کسی اذیت سے کم نہیں کہ جس کو وجود بخشا وہی آپ کو ختم کرنے کو آ دھمکے؟
کہاں ملے گا وہ اندھیرا۔۔ کہاں ملے گا وہ اندھا کمرہ؟؟
بتاو نا اماں خاموش کیوں ہو اب۔۔ اماں نے شفقت سے میرے ماتھے پو بوسا دیا اور بولی بیٹا! دل کے چار نہاں خانوں میں ڈھونڈو اس اندھے کمرے کو۔
کیونکہ اگر دل میں ابہام ہیں تو خوشفہمیاں بھی وہیں ہیں۔ اگر دل میں محبت ہے تو نفرت کی کونپلیں بھی اسی محبت کو داغدار کرتی ہیں۔اگر دل میں خدائ رابطہ ہے تو زمینی رابطہ بھی ہے۔ وہ رابطہ قائم کرو۔ دل ہی وہ جگہ ہے جہاں ہم اپنے ادھڑے وجود کی رفوگری کرتے ہیں۔۔ جہاں اداسیوں کیمالا پرو کر ان پر وصل کے گیت گاتے ہیں۔۔ جہاں دفن شدہ خواہشات کو پھر سے پروان چڑھایا جاتا ہے جہاں انسووں سے ان کی آبیاری کی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نہاں خانے کو ڈھونڈ کر اس میں پناہ لی جائے اپنے تمام  زمینی رابطے استعمال کرو اس خانے کو ڈھونڈنے میں اور خدائ رابطے سے اس کو خود
سے ہمیشہ کے لئے جوڑ لو۔ یہ دل سٹور روم کی طرح ہے جہاں تھوڑی سی محنت لگن اور کوشش سے وہ حاصل کر لیا جاتا ہے جس کی تڑپ ہو۔ یہ دل ہی تمہارا اپنا اندھیرا ہے صرف تمہارا۔ میرے بہتے آنسووں کی شدت اب کم ہو چکی تھی۔ کوئ کہیں دور اندر سے میرے دل کے اندھدے کمرے پر دستک دے رہا تھا۔۔ وہ کوئ اور نہیں میرا اپنا وجود تھا۔۔ پورے بچپن کے ساتھ بھرپور جوانی لئے ہوئے۔
مجھے میرا اندھیرا مل گیا تھا، میرا دل،میرا اپنا سٹور روم۔۔ میری محبتوں کا ساتھی اور میری نفرتوں کامداوا۔
میرے وجود کا سہارا!
جسے میں نے سوچا بہت اور  پکارا بہت۔
۔۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of